Google Web Search Gadget

خودی کو کر بلند اتنا کہ ۔ ۔ ۔

اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟


علم نفسیات (Psychology) میں شخصیت کا مطالعہ ایک دلچسپ موضوع ہے۔ شخصیت کی ایک جامع و مانع تعریف کرنا بہت مشکل ہے۔ سادہ الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کسی انسان کی شخصیت اس کی ظاہری و باطنی اور اکتسابی و غیر اکتسابی خصوصیات (Personality Attributes) کا مجموعہ ہے۔ اگر کوئی ہم سے پوچھے کہ تمھارے دوست کی شخصیت کیسی ہے؟ تو ہم جواب میں فوراً اس کی چند صفات کا ذکر کرتے ہیں کہ وہ محنتی، وقت کا پابند، ذہین اور مخلص ہے۔

ان میں سے بہت سی خصوصیات مستقل ہوتی ہیں، لیکن طویل عرصے کے دوران ان میں تبدیلیاں بھی پیدا ہوتی رہتی ہے اور انہی خصوصیات کی بنیاد پر ایک شخص دوسرے سے الگ نظر آتا ہے اور ہر معاملے میں دوسروں سے مختلف رویے اور کردار کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اگر کسی کی شخصیت کو درست طور پر جان لیا جائے تو پیش گوئی کی جاسکتی ہے کہ وہ فرد مخصوص حالات میں کیا کرے گا۔ ان میں سے بعض صفات عارضی حالات کی پیداوار بھی ہوتی ہیں۔

علم نفسیات کی طرح شخصیت اور کردار کی تعمیر دین کا بھی اہم ترین موضوع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی جو ہدایت انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے ذریعے دنیا میں بھیجی ہے ، اس کا بنیادی مقصد ہی انسان کی شخصیت اور کردار کی صفائی ہے۔ اسی کا نام ’’تزکیہ نفس‘‘ ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ھو الذی بعث فی الامّیّن رسولا منھم یتلوا علیھم اٰیٰتہ و یزکیھم و یعلمھم الکتاب و الحکمۃ۔ (الجمعہ 62:2) ’’وہی ذات ہے جس نے ان امیوں میں ایک رسول انہی میں سے اٹھایا ہے جو اس کی آیتیں ان پر تلاوت کرتا ہے اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اور (اس کے لئے) انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔‘‘

انسان کی یہ خصوصیات بنیادی طور پر دو قسم کی ہیں: ایک تو وہ ہیں جو اسے براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملی ہیں ۔ یہ غیر اکتسابی یا قدرتی صفات کہلاتی ہیں۔ دوسری وہ خصوصیات ہیں جنہیں انسان اپنے اندر یا تو خود پیدا کر سکتا ہے یا پھر اپنی قدرتی صفات میں کچھ تبدیلیاں پیدا کرکے انہیں حاصل کرسکتا ہے یا پھر یہ اس کے ماحول کی پیداوار ہوتی ہیں۔ یہ اکتسابی صفات کہلاتی ہیں۔ قدرتی صفات میں ہمارا رنگ، نسل ، شکل و صورت ، جسمانی ساخت ، ذہنی صلاحیتیں وغیرہ شامل ہیں۔ اکتسابی صفات میں انسان کی علمی سطح، اس کا پیشہ، اس کی فکر وغیرہ شامل ہیں۔

شخصیت کی تعمیر ان دونوں طرز کی صفات کو مناسب حد تک ترقی دینے کرنے کا نام ہے۔ انسان کو چاہئے کہ وہ اپنی شخصیت کو دلکش بنانے کے لئے اپنی قدرتی صفات کو ترقی دے کر ایک مناسب سطح پر لے آئے اور اکتسابی صفات کی تعمیر کا عمل بھی جاری رکھے۔

شخصیت کے باب میں ہمارے نزدیک سب سے اعلیٰ و ارفع اور آئیڈیل ترین شخصیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت ہے۔ اعلیٰ ترین صفات کا اس قدر حسین امتزاج ہمیں کسی او رشخصیت میں نظر نہیں آتا۔ آپ بحیثیت ایک انسان اتنی غیرمعمولی شخصیت رکھتے ہیں، کہ آپ کی عظمت کا اعتراف آپ کے مخالفین نے بھی کیا۔ دور جدید کے متعصب مغربی مفکرین نے بھی آپ کی شخصیت اور کردار کی عظمت کو کھلے لفظوں میں بیان کیا ہے۔

قرآن مجید اور صحیح احادیث سے ہمیں سابقہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی شخصیات کے بہت سے اعلیٰ پہلو ملتے ہیں لیکن ان سب میں مسئلہ یہ ہے کہ ان کے بارے میں صحیح اور درست معلومات بہت کم میسر ہیں۔ یہ خصوصیت صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو حاصل ہے کہ آپ کی سیرت طیبہ کا تفصیلی ریکارڈ ہمارے پاس موجود ہے۔ آپ کے زیر تربیت صحابہ کرام علیہم الرضوان میں بھی ہمیں اعلیٰ شخصی صفات بدرجہ اتم ملتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری اس تحریر میں آپ کو جگہ جگہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی سیرت سے حوالے ملیں گے۔

انسان کی شخصیت کے دو پہلو ہیں۔ ایک اس کا ظاہر اور دوسرا اس کا باطن۔ انسان کا ظاہر وہ ہے جو دوسرے لوگوں کو واضح طور پر نظر آتا ہے۔ اس میں اس کی ظاہری شباہت اور رویے شامل ہیں۔ باطن میں انسان کی عقل، علم، جذبات، احساسات اور رجحانات شامل ہیں۔ عام طور پر انسانوں کا ظاہر ان کے باطن ہی کا عکس ہوتا ہے البتہ بعض افراد عارضی طور پر اپنے باطن پر پردہ ڈالنے میں کامیاب ہو ہی جاتے ہیں۔

جیسا کہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے کہ ان میں سے بعض صفات مستقل نوعیت کی ہوتی ہیں جبکہ کچھ کیفیات عارضی نوعیت کی ۔ انسان کی مستقل صفات وہ ہوتی ہیں جو ایک طویل عرصے میں ارتقاء پذیر ہوتی ہیں اور ان میں تبدیلیاں بہت آہستہ آہستہ آتی ہیں۔ یہ صفات انسان کی پوری عمر اس کے ساتھ رہتی ہیں۔ مثلاً انسان کی علمی و عقلی سطح ایک طویل عرصے میں ہی بلند ہوتی ہے اور اس میں تبدیلی کی رفتار کو سالوں میں ناپا جاتا ہے۔ اس کے برعکس انسان کی خوشی یا غمی ایک عارضی کیفیت ہے جو ہر تھوڑی دیر کے بعد بدل جاتی ہے۔ یہ ممکن ہے کہ ایک شخص پانچ بجے خوش ہو لیکن ساڑھے پانچ بجے کسی وجہ سے غمگین ہو گیا ہو۔ انسان کی مستقل صفات اس کی عارضی کیفیتوں پر اثر انداز ہوتی رہتی ہیں۔ اگر انسان اپنی عارضی کیفیتوں میں بھی ایک مخصوص رویہ اختیار کرنے لگ جائے تو یہ بھی اس کی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔ مثلاً ایک شخص اگر بات بات پر بھڑک اٹھتا ہو تو سب لوگ اس کی شخصیت کے تصور میں اس کا غصہ ور ہونا بھی شامل کر دیتے ہیں۔

ذیل میں ہم انسان کی شخصیت کے ان دونوں پہلوؤں کی تفصیلی صفات کی ایک نامکمل فہرست دے رہے ہیں۔ آپ مزید غور و فکر کرکے اس فہرست میں اضافہ کرسکتے ہیں۔



• ذہانت

• قوت برداشت

• ذہنی پختگی

• صبر و شکر

• علمی سطح

• ٹیم اسپرٹ

• خود انحصاری یا دوسروں پر انحصار

• طرز فکر اور مکتب فکر

• خود غرضی

• فطری رجحان

• قائدانہ صلاحیتیں

• تخلیقی صلاحیتیں

• عصبیت

• عادات

• انتہا پسندی

• خوشی و غمی • احساس ذمہ داری

• قانون کی پاسداری

• قوت ارادی او رخود اعتمادی

• ظاہری شکل و شباہت اور جسمانی صحت

• شجاعت و بہادری

• چستی

• انصاف پسندی

• ایثار

• کامیابی کی لگن

• احساس برتری یا کمتری

• بخل و سخاوت

• خوش اخلاقی

• لالچ اور قناعت

• معاملہ فہمی

• فنی اور پیشہ ورانہ مہارت

• جوش و ولولہ • ابلاغ کی صلاحیتیں

• جنسی جذبہ

• اپنے ارد گرد کی چیزوں کے بارے میں رویہ

• غصہ

• خطرات کے بارے میں رویہ

• مایوسی و تشویش کی صورت میں رویہ

• پسندیدگی اور ناپسندیدگی

• جذبات و احساسات کا طریق اظہار

• محبت و نفرت

• غیبت

• اخلاص

• خوف

• حیرت و تجسس

• ترجیحات



جب ہیرے کو کان سے نکالا جاتا ہے تو یہ محض پتھر کا ایک ٹکڑا ہوتا ہے۔ ایک ماہر جوہری اسے تراش خراش کر انتہائی قیمتی ہیرے کی شکل دیتا ہے۔ انسان کی شخصیت کو بھی تراش خراش کر ایک اعلیٰ درجے کی شخصیت بنانا بھی اسی قسم کا فن ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہیرا جوہری کے ہاتھوں میں مجبور ہوتا ہے کہ وہ جیسی شکل چاہے، اسے دے دے جبکہ انسان ایک زندہ مخلوق ہے۔ اس کی شخصیت کی تراش خراش کرنے والے والدین ، اساتذہ اور دوست اپنی مرضی سے اسے کوئی شکل نہیں دے سکتے بلکہ اس میں سب سے زیادہ اہم چیز اس کی اپنی آمادگی بھی ہوتی ہے۔ اگر کوئی فرد اس سانچے میں نہ ڈھلنا چاہے جس میں اس کے والدین ، اساتذہ یا دوست ڈھالنا چاہتے ہیں تو دنیا کی کوئی طاقت اسے اس پر مجبور نہیں کرسکتی۔ ہاں ایسا ضرور ہے کہ جبر کے تحت وہ کسی کام سے رک جائے لیکن چھپ چھپ کر اس کام کو کرنے سے جبر اسے نہیں روک سکتا۔انسان کی مستقل صفات کو کس طرح تراشا کیا جائے؟ اس میں کیا تراش خراش کی جائے جس کے نتیجے میں یہ شخصیت کا ایک بہترین نمونہ بن سکے؟ اس کی کچھ تفصیل اس تحریر میں پیش کی گئی ہے۔ اس تحریر میں بہت سے مقامات پر امین احسن اصلاحی صاحب کی کتاب "تزکیہ نفس" سے ماخوذ ہیں:



ذہانت (Intelligence)

ذہانت ایسی چیز ہے جو انسان کو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ودیعت ہوتی ہے۔انسان اس میں کسی حد تک اضافہ کر سکتا ہے یا یوں کہنا مناسب ہو گا کہ اس کے استعمال کو بہتر بناسکتا ہے۔ایک عام ذہنی سطح کے انسان کو ذہین تو نہیں بنایا جاسکتا لیکن اسے یہ دولت جس حد تک ملی ہے اسے بہتر طور پر استعمال ضرور کیا جاسکتا ہے۔

ذہانت کے بارے میں کچھ غلط تصورات بھی پائے جاتے ہیں جن کے مطابق یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ موروثی چیز ہے ،یا یہ کہ مرد عورتوں سے، پڑھے لکھے ان پڑھوں سے، امیر غریبوں سے، شہری دیہاتیوں سے ، اعلیٰ سمجھی جانے والی ذاتیں ادنیٰ سمجھی جانے والی ذاتوں سے، سفید فام نسل دوسری نسلوں سے اور مغربی اقوام مشرقی اقوام سے زیادہ ذہین ہیں۔ ان تصورات کی کوئی حقیقت نہیں۔ دراصل مردوں، تعلیم یافتہ افراد، امیروں، شہر میں رہنے والوں، اعلیٰ سمجھی جانے والی ذاتوں، سفید فاموں اور اہل مغرب کو دنیا میں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع زیادہ ملتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی صلاحیتیں زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آتی ہیں۔ جہاں کہیں خواتین، غرباء او ردیگر طبقات کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کر موقع ملا ہے، ان کی ذہانت ابھر کر سامنے آئی ہے۔

اپنی ذہانت کی پیمائش کے کئی اسکیل دنیا میں رائج ہیں جو کہ IQ-Intelligence Quotient)) ٹیسٹ کہلاتے ہیں۔ انٹر نیٹ پر ایسے کئی ٹیسٹ دستیاب ہیں۔ان کے ذریعے اپنی ذہانت کی کسی حد تک پیمائش کی جاسکتی ہے۔

ذہانت کو قابل استعمال بنانے کے لئے کئی طریق ہائے کار ہیں۔ ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ اپنی علمی سطح کو بلند کیا جائے ، علم کے ساتھ ساتھ ذہانت بھی خود بخود بڑھ سکتی ہے۔ ذہنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لئے بہت سی کھیلیں بھی ایجاد کی گئی ہیں جن میں اپنی اپنی عمر اور دلچسپی کے مطابق مناسب کھیل کھیل کر ان صلاحیتوں کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ قدیم دور سے طلبا ء کو منطق کی مشقیں کروا کر ان کی ذہانت کی سطح بلند کی جاتی تھی۔ آج کے دور میں بھی Applied Mathamatics کا مضمون اسی مقصد کے لئے پڑھایا جاتا ہے۔

والدین اور اساتذہ کو چاہئے کہ وہ اپنے زیر تربیت افراد کی ذہانت بڑھانے کے لئے انہیں ایسے مضامین اور کھیلوں کی ترغیب دیں۔ تجربے (Exposure) کے ساتھ ساتھ انسان میں تجزیہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ جو لوگ دنیا سے کٹ کر رہتے ہیں، ان کی صلاحیتیں پوری طرح کھل نہیں پاتیں جبکہ ایسے لوگ جو ہر طرح کے تجربے سے گزرتے ہیں، ان کی ذہنی صلاحیتیں بہتر انداز میں نشوونما پاتی ہیں۔ یہی وجہ ہےکہ کہا جاتا ہے کہ جو بچے اپنے والدین کے کلچر سے متضاد کلچر میں پرورش پاتے ہیں، ان میں قوت خود اعتمادی اور ذہانت زیادہ ہوتی ہے۔

آپ کو ذہانت کی جتنی دولت نصیب ہوئی ہے ، اس کا شکر ادا کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے دین کے کاموں میں بھی خرچ کریں ۔ اپنے غور و فکر سے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کیجئے اور اپنی ذہنی صلاحیتوں کو اس کے دین کی دعوت میں استعمال کیجئے۔



ذہنی پختگی (Maturity)

ذہنی پختگی تجربے کے ساتھ آتی ہے۔ اسے عمر کے ساتھ خاص کرنا درست نہیں کیونکہ بعض عمر رسیدہ افراد بھی کئی معاملات میں پختہ نہیں ہوتے۔ اس کی واضح مثال ہمارے دور میں کمپیوٹر سائنسز کی فیلڈ ہے۔ اس میدان میں عام طور پر نوجوان ، عمر رسیدہ افراد کی نسبت زیادہ پختگی رکھتے ہیں کیونکہ انہیں اس کا زیادہ تجربہ ہوتا ہے۔ ہمارے دور میں زندگی اتنی پیچیدہ ہو چکی ہے کہ اب اس کے ہر معاملے میں ذہنی پختگی حاصل کرنا کسی ایک شخص کے لئے ممکن نہیں رہا۔ آپ زندگی کے جن جن معاملات مثلاً تعلیم، پیشے وغیرہ میں پختگی حاصل کرنا چاہتے ہیں، اس کا زیادہ سے زیادہ مطالعہ کیجئے اور اپنے علم کو تجربے کی کسوٹی پر پرکھیے۔ اپنی غلطیوں سے سبق سیکھئے اور انہیں دوہرانے سے پرہیز کیجئے۔ اسی سے اس خاص معاملے میں ذہنی پختگی حاصل ہوگی۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی بات کو یوں بیان فرمایا ہے کہ مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاسکتا۔ تجربے کا کوئی نعم البدل نہیں۔ البتہ عقل مند لوگ بہت مرتبہ خود تجربہ کرنے سے پہلے دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر ہر سائنس دان اپنی تحقیق کا آغاز پہیے کی ایجاد ہی سے کرتا تو دنیا میں اس قدر سائنسی ترقی نہ ہوسکتی۔ دوسروں کے تجربات سے حاصل کردہ نتائج کو آگے بڑھایے اور مزید پختگی حاصل کرتے جائیے۔



علمی سطح

علمی سطح کو بلند کرنے کے دو ہی طریقے ہیں یعنی مطالعہ و مشاہدہ اور تجربہ۔ مطالعے و مشاہدے کے ذریعے انسان دوسروں کا دریافت کردہ علم حاصل کرتا ہے اور تجربے کے ذریعے اس میں اپنی طرف سے اضافہ کرتا ہے۔ اہل علم کی صحبت اختیار کیجئے اور زیادہ سے زیادہ مطالعہ کیجئے اور حاصل کردہ علم کو عملی تجربے کی کسوٹی پر پرکھیے۔ اسی سے ذہنی پختگی کے ساتھ ساتھ علمی سطح بھی بلند ہوگی۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے رب سے علم میں اضافے کی دعا کیا کرتے تھے۔

ذہانت اور علم کے ساتھ ایک فتنہ بھی وابستہ ہے اور وہ غرور و تکبر کا فتنہ ہے۔ جو انسان زیادہ ذہین ہو یا پھر بڑا عالم ہو، بالعموم دوسروں کو حقیر سمجھنے لگتا ہے اور کسی اور کی بات کو قبول کرنے کی زحمت نہیں کرتا خواہ وہ بات حق ہی کیوں نہ ہو۔ جب بھی ایساخیال آئے تو فوراً اللہ تعالیٰ سے توبہ کیجئے اور یہ سوچئے کہ یہ ذہانت اور علم کس کا عطا کردہ ہے؟ اگر تو اسے آپ نے خود ہی پیدا کیا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ جس نے اسے عطا فرمایا ہے وہ اسے چھین بھی سکتا ہے۔



طرز فکر اور مکتب فکر

ہر انسان ایک مخصوص طریقے سے سوچتا ہے۔ وہ بعض چیزوں کو ترجیح دیتا ہے اور بعض کو زیادہ اہمیت نہیں دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف علوم میں مکاتب فکر (Schools of Thought) وجود میں آتے ہیں۔ کسی بھی علمی میدان میں جب کوئی غیر معمولی شخصیت پیدا ہوتی ہے تو وہ اس میں ایسے اضافے کر دیتی ہے جس کی مثال عام لوگوں میں نہیں ملتی۔ جن لوگوں کی طرزفکر اس طرز فکر سے میچ ہو جاتی ہے، وہ اس غیر معمولی شخصیت کی پیروی کرنے لگتے ہیں۔ اس طرح ایک مکتب فکر وجود پذیر ہوتاہے۔

اس کی ایک بڑی مثال امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا مکتب فکر ہے۔ امام صاحب ایک اعلیٰ درجے کے ذہین و فطین شخص تھے۔ دین کو سمجھنے میں انہیں جو مقام حاصل ہے، وہ بہت کم افراد کو نصیب ہوا۔ انہوں نے دین کو جس طرح سمجھا اور دین کو سمجھنے کے جو اصول وضع کئے ، انہیں اس وقت کے ذہین ترین افراد کی تائید حاصل ہوئی۔ امام صاحب نے چن چن کر اپنے گرد ذہین ترین لوگوں کو اکٹھا کیا اور اسلامی قانون کی تدوین سازی کا کام شروع کیا۔

اس مقصد کے لئے انہوں نے اپنے وسیع پیمانے پر پھیلے ہوئے کاروبار سے حاصل ہونے والی آمدنی کو وقف کردیا۔ انہوں نے اپنے قریبی شاگردوں کے گھر کا خرچ تک بھی اٹھا کر انہیں معاشی فکروں سے بے نیاز کردیا۔ اُن کی اِن کاوشوں سے نتیجے میں فقہ اسلامی کا ایک عظیم ذخیرہ وجود میں آیا جو کچھ عرصے میں دنیا کی سب سے بڑی مملکت کا قانون بن گیا اور تقریباً ایک ہزار سال تک رائج رہا۔

مالکی، شافعی ، حنبلی ، ظاہری اور دیگر مکاتب فکر بھی اسی طرح وجود پذیر ہوئے۔دوسرے علوم مثلاً نفسیات، معاشیات وغیرہ میں بھی ہمیں ایسی مثالیں ملتی ہیں ۔ علم معاشیات میں ایڈم سمتھ، مارشل ، مارکس اور کینز غیر معمولی شخصیات ہیں جنہوں نے اپنے اپنے مکاتب فکر تشکیل دیے۔ اسی طرح علم نفسیات میں ولیم جیمز، واٹسن، فرائڈ اور ماسلو کے مکاتب فکر زیادہ مشہور ہیں۔ یہی حال دوسرے علوم کا ہے۔

علم کی دنیا میں اپنے طرز فکر کو زیادہ اپیل کرنے والے مکتب فکر کو اختیار کرنا اور اس سے وابستہ ہونا کوئی بری بات نہیں سمجھی جاتی۔ ہر مکتب فکر کے اہل علم دوسرے مکاتب فکر کا احترام کرتے ہیں اور یہ روایت قدیم دور سے آج تک چلی آ رہی ہے۔ امام ابوحنیفہ اور امام مالک علیہما الرحمۃ کے مابین جس درجے کا احترام پایا جاتا تھا ، اس کی مثالیں عام لوگوں میں بہت کم ملتی ہیں۔

مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ معاملہ اہل علم و دانش کی سطح سے اتر کر عوامی سطح پر اتر آتا ہے۔ جب کسی مکتب فکر پر کوتاہ قامت اور عامیانہ سوچ رکھنے والوں کا اقتدار قائم ہو جاتا ہے یعنی دوسرے لفظوں میں انہیں اپنے ظرف سے زیادہ مقام مل جاتا ہے تو پھر وہ اپنے علاوہ دوسرے کو حقیر اور غلط سمجھنے لگتے ہیں۔ ان کے نزدیک اپنے مکتب فکر کی ہر بات درست اور دوسرے کی ہر بات غلط ہو جاتی ہے۔ ان کا سارا زور اپنے نقطہ نظر کی حمایت میں الٹے سیدھے دلائل فراہم کرنے میں لگ جاتا ہے ، ایک دوسرے سے حسد بغض کی شکل اختیار کرجاتا ہے جو آگے چل کر نفرت کی شکل اختیار کر جاتا ہے اور پھر مکتب فکرسے مسلک ، مسلک سے فرقہ اور فرقے سے نیا مذہب جنم لیتا ہے۔

اپنے طرز فکر اور مزاج کو اپیل کرنے والے کسی مکتب فکر سے تعلق قائم کرنا کوئی برائی نہیں۔ ہاں جہاں معاملہ مکتب فکر سے بڑھ کر مسلک ، گروہ بندی اور فرقے کی شکل اختیار کرچکا ہو وہاں اس سے اجتناب کرنا نہایت ضروری ہے۔ اگرانسان یہ سمجھ بیٹھے کہ میرے مکتب فکر کے سوا دنیا میں کہیں حق نہیں پایا جاتا اور اسی پر جامد ہو کر اپنے ذہن کے دروازے ہر نئی فکر اور ہر نئی سوچ کے لئے بند کرلے، توپھر اس کے لئے ہدایت کے دروازے بند ہو جاتے ہیں اور وہ نفرت اور تعصب کی آگ ہی میں جلتا رہتا ہے۔ اس موقع پر امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک ارشاد بڑا معنی خیز ہے، ’’ دین کے اصولی و بنیادی معاملات میں تو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم حق پر ہیں اور ہمارا مخالف غلطی پر ہے ، لیکن اجتہادی اور فروعی مسائل میں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اگرچہ ہم نے اپنے تئیں درست رائے اختیار کی ہے لیکن اس بات کا امکان موجود ہے کہ ہم غلط ہوں اور ہمارا مخالف صحیح ہو۔‘‘

جو لوگ اپنی شخصیت کی ایک آئیڈیل سطح تک تراش خراش کرنا چاہیں، ان کے لئے لازم ہے کہ وہ خود میں وسعت نظری کو فروغ دیں اور تنگ نظری سے بچیں ورنہ ان کی شخصیت نامکمل رہ جائے گی۔والدین اور اساتذہ کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے زیر تربیت افراد میں حتی الامکان ہر قسم کے تعصب اور تنگ نظری کو پیدا ہونے سے بچائیں۔



فطری رجحان (Aptitude)

انسان میں کسی کام کا فطری رجحان پایا جاتا ہے۔ اس فطری رجحان کو دبانے سے بہت سے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں والدین بالعموم بچوں کے رجحانات کو دبا کر اس پر اپنے ذاتی رجحانات مسلط کرتے ہیں۔ اس صورت میں بچہ اپنے رجحان کی تکمیل کے لئے غیر اخلاقی طریقے بھی اختیار کر لیتا ہے ۔ اس کی ایک بڑی مثال جنس کے بارے میں ہمارا رویہ ہے۔

ہر انسان میں جنس مخالف کی طرف ایک فطری رجحان پایا جاتا ہے۔ اس کا سیدھا سادہ اور اخلاقی حل یہ ہے کہ بچہ جیسے ہی بلوغت کی منزل طے کرے ، اس کی جلد سے جلد شادی کردی جائے تاکہ وہ اپنی خواہش کو فطری طور پر پورا کرسکے۔ ہمارے قدیم معاشرے میں ایساہی ہوتا تھا جس کے نتیجے میں جنسی مسائل بہت کم پیدا ہوا کرتے تھے۔ ہمارے یہاں معاشرتی نظام کو کچھ ایسا بنا دیا گیا ہے کہ شادی مشکل سے مشکل ترین ہو تی جارہی ہے اور جنسی تسکین کے ناجائز طریقے آسان سے آسان ہوتے جارہے ہیں۔ اس پر طرہ یہ کہ میڈیا صنفی خواہشات کو زیادہ سے زیادہ ابھارنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشروں میں جنسی بے راہ روی پھیلتی جارہی ہے۔ اس مسئلے پر ریحان احمد یوسفی صاحب نے اپنی تحریر ’’یہ نعمت مصیبت کیوں بن گئی؟‘‘ میں دلچسپ بحث کی ہے۔

اس کی ایک بڑی مثال تعلیم کے میدان میں سامنے آتی ہے۔ ایک طالب علم جن مضامین کو اختیار کرنا چاہتا ہے ، والدین زبردستی اسے اس سے ہٹا کر ڈاکٹر یا انجینئر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ رجحان کے بارے میں والدین کو چاہئے کہ و ہ اپنے بچوں کے فطری رجحانات کو نہ دبائیں اور انہیں اپنے شوق کی تسکین کر لینے دیں۔

اس سلسلے میں عملی رکاوٹ یہ ہے کہ بعض اوقات انسان کا رجحان کسی ایسے پیشے کی طرف ہوتا ہے جس میں اسے کوئی بہت اچھا کیرئیر ملنے کی توقع نہیں ہوتی۔ مثلاً ایک شخص کا رجحان اد ب اور فلسفے کی طرف بہت زیادہ ہے لیکن اس میں ڈاکٹریٹ کرنے کے بعد بھی اسے کوئی بہت اچھی ملازمت نہیں مل سکتی۔ ایسی صورت میں عملی حل یہ ہے کہ اپنے رجحانات کی ایک لسٹ بنائیے اور اس میں ترجیحات متعین کیجئے۔ اگر آپ کی پہلی ترجیح کوئی بہت اچھا کیرئیر نہیں دے سکتی تو پھر دوسری یا تیسری ترجیح اختیار کر لیجئے اور پہلی ترجیح کو اپنا فارغ وقت کا مشغلہ یا شوق بنا لیجئے۔

اس کی مثال یہ ہے کہ فرض کر لیجئے کہ آپ کا رجحان فلسفہ پڑھنے کی طرف ہے اور آپ کی دلی خواہش یہ ہے کہ اس مضمون کو کم از کم ماسٹرز کی سطح تک ضرور پڑھا جائے۔ پاکستان میں فلسفیوں کو بالعموم کوئی بہت اچھا کیرئیر نہیں ملتا۔ آپ کی دوسری ترجیح مارکیٹنگ کے شعبے کی ہے جس میں بالعموم ایک اچھا کیرئیر مل جاتا ہے۔ اس صورت میں آپ یہ کر سکتے ہیں کہ پیشے کے طور پر آپ مارکیٹنگ کو اختیار کریں اور فلسفے کو بطور شوق ذاتی طور پر پڑھتے رہیے۔

آپ اپنے رجحان کی تسکین کے اچھے طریقے بھی اختیار کر سکتے ہیں اور برے بھی۔ مثلاً اگر آپ کو لٹریچر پڑھنے کا شوق ہے تو آپ کو مثبت اور تعمیری لٹریچر میں شاہکار قسم کی تصنیفات بھی مل سکتی ہیں ، منفی نوعیت کا مایوسی پھیلانے والا لٹریچر بھی مل سکتا ہے اور لچر قسم کا جنسی ناول بھی۔ رجحانات کے بارے میں اس بات کا خیال رکھئے کہ آپ کو ہمیشہ اچھی چیزوں کا انتخاب ہی کرنا چاہئے اور بری چیزوں سے اجتناب کرنا چاہئے۔



تخلیقی صلاحیتیں (Creativity)

تخلیقی صلاحیتوں سے مراد کسی انسان کی وہ صلاحیتیں ہیں جن کی بدولت وہ نئے نئے آئیڈیاز تخلیق کر تا ہے اور ان کی بنیاد پر عملی زندگی میں نئی نئی اختراعات کرتا ہے۔بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ تخلیقی سوچ کی بالعموم حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ ایک ماہر نفسیات کے الفاظ میں، ’’ہمارے ہاں اس بچے یا فرد کو پسند کیا جاتا ہے جو فرمانبردار ہے، دوسروں کا ادب کرتا ہے، اپنا کام وقت پر مکمل کرتا ہے، اس کے ہم عصر اسے پسند کرتے ہیں، اور جو دوسروں میں مقبول ہے۔ اس کے مقابلے میں ہم ایسے بچوں کو پسند نہیں کرتے جو بہت زیادہ سوال پوچھتے ہیں، سوچنے اور فیصلہ کرنے میں خود مختار ہوتے ہیں، اپنے عقائد پر ڈٹے رہتے ہیں، کسی کام میں مگن رہتے ہیں اور کسی بااختیار شخص کی بات کو من و عن قبول نہیں کرتے۔ پہلی قسم کے بچے کو ہم ’’اچھا بچہ ‘‘ کہتے ہیں اور دوسری قسم کے بچے کو ہم بدتمیز یا نافرمان بچہ سمجھتے ہیں۔ ہمارے تعلیمی ماحول میں بھی تخلیقی سوچ کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ اگر ایک بچہ امتحان میں کسی سوال کے جواب میں اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے تو اسے کم نمبر دیے جاتے ہیں۔ ہمارے ٹی وی اور ریڈیو پر ذہنی آزمائش کے پروگرام سوچنے کی صلاحیت کی بجائے یادداشت کی آزمائش کرتے ہیں۔ مذہبی تعلیم میں بھی قرآن کو حفظ کرنے پر زور دیا جاتا ہے لیکن اس کو سمجھ کر روزمرہ زندگی پر اطلاق کرنے کی تربیت نہیں دی جاتی۔ بچوں کو کامیابی حاصل کرنے اور اول آنے کی ترغیب دی جاتی ہے، لیکن علم حاصل کرنے یا نئی باتوں کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ ہم غلطیاں کرنے اور ان کا اقرار کرنے سے گھبراتے ہیں لیکن غلطیوں کے بغیر تخلیقی سوچ ناممکن ہے۔ ------ ہمارے یہاں اگر کچھ فنکاروں اور ان کی تخلیق کو اہمیت دی جاتی ہے تو اس عمل کو نظر انداز کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں کوئی تصویر، دھن وغیرہ کی تخلیق ہوئی ہے، یعنی تخلیق کے نتائج کو تو سراہا جاتا ہے لیکن اس محنت اور جدوجہد کو نظر انداز کیا جاتا ہے جسے تخلیقی عمل کہتے ہیں۔‘‘ (رفیق جعفر، نفسیات ص 486-487 )

تخلیقی سوچ میں تین اہم عناصر ہوتے ہیں: (۱) جدت؛ (۲) کسی مسئلے کو حل کرنے کی صلاحیت ؛ اور (۳) کوئی قابل قدر مقصد حاصل کرنے کی صلاحیت۔ جدت سے مراد موجودہ یا روایتی انداز میں پائی جانے والی چیزوں ، تصورات وغیرہ کو انفرادی انداز میں آپس میں ملانا یا نئے سرے سے ترتیب دینا ہے۔ دنیا میں جتنے تخلیقی کام کئے گئے ہیں، ان میں پرانی چیزوں یا تصورات کو نئے انداز میں دیکھاگیا ہے۔ مثلاً جب نیوٹن نے سیب کو گرتے ہوئے دیکھا تو یہ عمل نہ تو نیوٹن کے لئے اور نہ ہی کسی اور کے لئے انوکھا واقعہ تھا لیکن نیوٹن نے اس عمل کو ایک خاص انداز میں دیکھا، اسے نئے معنی دیے اور اس طرح کشش ثقل (Gravity) کا قانون دریافت کیا۔ تاہم صرف جدت ہی کسی سوچ یا عمل کو تخلیقی نہیں بنا دیتی بلکہ اس میں مسائل کا حل بھی بہت ضروری ہے۔

تخلیقی صلاحیتیں رکھنے والے افراد کی کچھ ایسی خصوصیات ہوتی ہیں جو انہیں دوسروں سے نمایاں کرتی ہیں۔ ماہرین نفسیات کی تحقیقات کے مطابق یہ لوگ انفرادیت پسند ہوتے ہیں اور روایتی سوچ اور کردار کے مقابلے میں اپنی ذات اور سوچ کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ یہ دوسروں پر کم انحصار کرتے ہیں اور اکثر معاملات میں خود مختار ہوتے ہیں حتی کہ ان کے جاننے والے انہیں ضدی اور سرکش قرار دے دیتے ہیں۔ ان میں عموماً لوگوں کی خوشنودی حاصل کرنے کا احساس کم ہوتا ہے۔ یہ مستقل مزاج ہوتے ہیں، جس کام میں دلچسپی لیتے ہیں، اسے تندہی سے کرتے ہیں اور ناکامیوں اور مشکلات سے نہیں گھبراتے۔ اگر ان کے ساتھی ان کا ساتھ چھوڑ بھی جائیں تو یہ ثابت قدم رہتے ہیں۔

عام لوگ چیزوں میں سادگی، تسلسل اور ترتیب کو پسند کرتے ہیں ، ابہام اور تضاد سے دور بھاگتے ہیں اور خیالات کی توڑ پھوڑ سے گھبراتے ہیں۔ان کے برعکس تخلیقی افراد کی شخصیت میں بہت لچک ہوتی ہے۔ وہ پیچیدہ، الجھی ہوئی ، غیر متوازن اور نامکمل چیزوں میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔ نئے نئے خیالات کو ٹٹولنے، انہیں توڑنے مروڑنے اور مختلف حل تلاش کرنے میں لطف محسوس کرتے ہیں۔ وہ تخلیق شدہ چیزوں میں دلچسپی لینے کی بجائے تخلیقی عمل میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔ یہ اپنے خیالات میں پائی جانے والی شورش، عدم استحکام، پیچیدگی اور افراتفری سے نہیں گھبراتے۔

یہ اپنی خوبیوں اور خامیوں سے عام لوگوں کی نسبت زیادہ آگاہ ہوتے ہیں۔ یہ دوسروں کے علاوہ خود کو بھی طنز و مزاح کا نشانہ بنانے سے نہیں ڈرتے۔ ان کا گھریلو ماحول بالعموم مثبت ہوتا ہے ۔ گھریلو لڑائی جھگڑے بہت کم ہوتے ہیں۔ والدین بچوں کو آزاد ماحول فراہم کرتے ہیں جس میں بچہ خود اپنے تجربات کے ذریعے ماحول سے آگاہی حاصل کرتا ہے۔ یہ جن اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں وہاں ماحول آمرانہ نہیں ہوتا بلکہ سوالات کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ استاد کا تعلق بالعموم ان سے دوستانہ ہوتا ہے اور تخلیقی صلاحیتوں کو نشوونما دی جاتی ہے۔

ان معلومات کی روشنی میں خود میں تخلیقی صلاحیتوں کی نشوونما کے لئے کچھ باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ اپنے فکر پر کبھی پہرے نہ بٹھائیے۔ اگر آپ کے ذہن میں کوئی سوال پیدا ہو تو اسے محض شیطانی وسوسہ سمجھ کر نظر انداز نہ کیجئے بلکہ اہل علم سے اس کا جواب مانگنے کی کوشش کیجئے۔ ذہن میں ایسے خیالات کو موجود رکھنے کی مشق کیجئے جو ایک دوسرے کے متضاد ہوں۔ متضاد ، پیچیدہ، الجھی ہوئی اور نامکمل چیزوں اور خیالات سے نہ گھبرائیے۔ اپنے گھر اور اداروں میں ایسا ماحول پیدا کیجئے جو تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دے۔ اپنے اداروں میں ڈسپلن کے نام پر خواہ مخواہ تخلیقی صلاحیتوں کا گلا نہ گھونٹئے بلکہ نئے خیالات کو خوش آمدید کہیے۔

تخلیقی سوچ کو فروغ دینے کے بہت سے طریقے دریافت ہو چکے ہیں۔ ان میں ایک طریقہ برین اسٹارمنگ (Brainstorming) ہے جس میں ایک گروپ کو کسی مسئلے کے زیادہ سے زیادہ حل تجویز کرنے کے لئے کہا جاتا ہے۔ پہلے مرحلے میں اس بات پر توجہ نہیں دی جاتی کہ کوئی حل اچھا اور قابل عمل ہے یا نہیں۔ اس کے نتیجے میں ہر شخص محض اس خوف سے خاموش نہیں رہتا کہ کہیں اس کا مذاق نہ اڑایا جائے یا اس کے خیال کو مسترد نہ کر دیا جائے۔ اگلے مرحلے پر ان تجاویز کے مثبت اور منفی پہلوؤں کا جائزہ لے کر ان میں سے اچھی تجاویز کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اسی طرح گروپ کی صورت میں مختلف آئیڈیاز اور چیزوں پر غور و فکر کرکے کسی اقدام کے فوری اور دوررس نتائج کا اندازہ لگانے، کسی چیز کی وجوہات اور مقاصد پر غور و فکر کرنے، کسی کام کی پلاننگ کرنے، کسی مسئلے کے مختلف ممکنہ پہلوؤں میں کسی ایک کا انتخاب کرنے، متبادل راستے تلاش کرنے ، فیصلے کرنے اور دوسروں کے نقطہ ہائے نظر کو سمجھنے سے تخلیقی سوچ نمو پذیر ہوتی ہے۔ آپ بھی اپنے دوستوں کی مدد سے چھوٹے چھوٹے تھنک ٹینک بنا کر یہ کام کر سکتے ہیں۔

تخلیقی سوچ کے ضمن میں اس بات کا بھی خیال رہے کہ بعض لوگ دین کے معاملے میں فکر و عمل کی تمام حدود پھلانگ جاتے ہیں جو کہ درست نہیں جیسا کہ زمانہ قدیم میں فرقہ باطنیہ اور دور جدید میں بعض حلقوں نے دین کے بنیادی تصورات توحید، رسالت، آخرت، نماز ، روزہ ، حج اور زکوۃ میں کئی ترامیم تجویز کی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جو دین ہمیں عطا فرمایا ہے، اپنی creativity کو استعمال کرکے اس میں کوئی تبدیلی کرنا بالکل غلط ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دین جس طرح ملا ہے اسے قبول کیجئے۔ دین کے معاملے ہماری تخلیقی صلاحیتوں کے استعمال کا اصل میدان دینی احکامات کو سمجھنا، دین کے فروغ کے لئے نئے نئے راستے تلاش کرنا، اور زندگی میں دین پر عمل کرنے کی راہ میں پیش آنے والی رکاوٹوں سے نمٹنے کے قابل عمل طریق ہائے کار دریافت کرناہے۔ اگر ہم دین ہی میں کوئی ترامیم کرنے لگ گئے تو دنیا میں بھی خائب و خاسر ہوں گے اور آخرت میں بھی ناکام و نامراد۔



احساس ذمہ داری

انسان کی شخصیت کا یہ وہ پہلو ہے جو دوسروں کی نظر میں اس کا مقام بنانے میں سب سے زیادہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر کسی شخص میں لاابالی پن پایا جاتا ہے تو اسے معاشرے میں کوئی مقام حاصل نہیں ہوتا۔ اسے نکما اور نکھٹو سمجھا جاتا ہے۔ جب انسان کوئی ذمہ داری اپنے سر پر لے لے تو اسے نبھانے کی ہر ممکن کوشش کرنا اس کا فرض ہے۔ بعض ذمہ داریاں ایسی ہوتی ہیں جن کا بوجھ اٹھانے یا نہ اٹھانے کا اسے کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ مثلاً اگر کسی کے والدین خدانخواستہ فوت ہو جائیں تو چھوٹے بہن بھائیوں کی ذمہ داری اس پر آ پڑتی ہے۔ اس معاملے میں انسان کا طرز عمل یہ ہونا چاہئے کہ وہ اس ذمہ داری کو پوری طرح ادا کرنے کی آخری حد تک کوشش کرے او راس سلسلے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا رہے۔

دوسری قسم کی ذمہ داریاں وہ ہوتی ہیں، جنہیں اٹھانے کا اختیار انسان کے پاس ہوتا ہے مثلاً ایک شخص کسی بچے کو گو د لے کر اس کی پرورش کی ذمہ داری لے سکتا ہے۔ ایسی ذمہ داریوں کو اٹھانے سے پہلے ہر شخص کو اچھی طرح سوچ لینا چاہئے کہ کیا میں اس ذمہ داری کو اٹھانے کا اہل ہوں یا نہیں؟ کیا مستقبل میں میرے حالات میں کوئی ایسی تبدیلی متوقع ہے جس کے نتیجے میں یہ ممکن ہے کہ میں اس ذمہ داری کو پورا نہ کرسکوں؟ ایسی صورت میں انسان کو یہ ذمہ داری اٹھانی ہی نہیں چاہئے۔

بعض اوقات انسان ایک ذمہ داری اٹھا کر دوسرے سے کوئی وعدہ کر لیتا ہے۔ اس معاملے میں ہمارے دین کا یہ حکم ہے کہ وعدے کو ضرور پورا کیا جائے۔ کبھی کبھار ایسی صورتحال بھی پیدا ہو جاتی ہے کہ حالات کی تبدیلی کے باعث کوئی شخص وعدہ پورا کرنے سے قاصر ہوجاتا ہے۔ ایسی صورتحال میں اسے چاہئے کہ وہ ان لوگوں کو اس بات کی فوراً اطلاع دے کہ اس مجبوری کی وجہ سے میں یہ ذمہ داری پوری نہیں کرسکوں گا۔ بالکل آخری موقع پر کسی کو جواب دینا اخلاقی اعتبار سے بہت گری ہوئی حرکت ہے۔

اپنی دنیاوی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ ہر شخص کو یہ جان لینا چاہئے کہ اس پر کچھ ذمہ داریاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی عائد ہیں جن کا حساب اسے مرنے کے بعد دینا ہوگا۔ ہر انسان پر یہ لازم ہے کہ وہ ان ذمہ داریوں کو جانے اور انہیں پورا کرنے کی کوشش کرے۔ جو لوگ اس سے غفلت برتتے ہیں، وہ دنیا میں کتنے ہی بڑے ذمہ دار عہدوں پر فائز کیوں نہ ہوں ، خدا کے ہاں ان کی کوئی حیثیت نہ ہوگی۔



قوت ارادی اور خود اعتمادی (Confidence)

جو انسان کسی بات کا ارادہ کرے لیکن اسے پورا نہ کرسکے تو یہ کہا جاتا ہے کہ اس میں قوت ارادی اور خود اعتمادی کی کمی ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ انسان اپنے ارادوں میں پختہ ہو ۔ فیصلہ کرنے میں خواہ کتنا ہی غور و فکر کیا جائے اور کتنا ہی وقت لگایا جائے، لیکن ایک مرتبہ فیصلہ کرکے اس سے پیچھے ہٹنا دوسروں کی نظر میں کسی شخص کے اعتبار (Credibility) کو خراب کر دیتا ہے۔ اسی طرح جس شخص کو اپنے آپ پر اعتماد نہ ہو ، دوسرے بھی اس پر اعتماد نہیں کرتے۔

قوت ارادی کو بہتر بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ اپنے ذہن کو مشورہ (Suggestion) دیجئے کہ میں یہ کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہوں۔ شروع شروع میں اپنے سامنے چھوٹے چھوٹے چیلنج رکھئے جیسے میں تقریر کر سکتا ہوں، میں یہ کھیل کھیل سکتا ہوں، میں کسی بڑے آفیسر سے پر اعتماد گفتگو کر سکتا ہوں وغیرہ وغیرہ۔ جب آپ ان چیلنجز کے مقابلے میں کامیاب ہوں گے تو آپ کی خود اعتمادی میں اضافہ ہوگا۔ آہستہ آہستہ ان چیلنجز کو بڑا کرتے جائیے ۔ کچھ ہی عرصے میں آپ محسوس کریں گے کہ اب آپ میں خاصا اعتماد پیدا ہو چکا ہے۔

خود اعتمادی کے بارے میں ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اسے حد سے زیادہ بھی نہیں ہونا چاہئے۔ بعض لوگ اپنی حقیقی صلاحیتوں کے بارے میں ضرورت سے زیادہ خود اعتماد (Over-Confident) ہوتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ دوسروں سے بڑے بڑے وعدے کر لیتے ہیں اور جب انہیں پورا نہیں کر پاتے تو دوسروں کی نظر میں ان کی شخصیت کا امیج مجروح ہوتا ہے۔ جب آپ میں خود اعتمادی کی کمی ہو، تب تو خود کو اوور کانفی ڈنٹ محسوس کرنے میں حرج نہیں لیکن جب آپ نارمل ہو جائیں تو اپنی صلاحیتوں کا حقیقی تجزیہ کیجئے جس میں صحیح معنوں میں اپنی خوبیوں اور خامیوں کا معائنہ کیجئے اور اس کے مطابق ہی اپنی خود اعتمادی کو ایڈجسٹ کیجئے۔



شجاعت اور بہادری

شجاعت کے دو پہلو ہیں: ایک باطنی اور دوسرے ظاہری۔ اس کا باطنی پہلو یہ ہے کہ کسی شخص میں حقائق اور نتائج کا سامنا کرنے کا ایسا حوصلہ ہو کہ وہ اپنے عزائم کو پورا کرنے میں بزدلی اور مداہنت کا رویہ اختیار نہ کرے۔ جس بات کو وہ حق سمجھے ، اس پر ڈٹ جائے اور اس کے بارے میں کسی ملامت کی پرواہ نہ کرے۔ ظاہری پہلو یہ ہے کہ انسان کی شجاعت کے جوہر کھل کر سامنے آئیں اور وہ دشمنوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرے۔ کسی انسان میں شجاعت کا باطنی پہلو زیادہ نمایاں ہوتا ہے اور کسی میں ظاہری۔

اگر ہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شخصیات کا جائزہ لیں تو سیدنا ابوبکر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کی شجاعت پہلی قسم کی ہے اور سیدنا عمر اور علی رضی اللہ عنہما کی دوسری قسم کی۔ لشکر اسامہ رضی اللہ عنہ کی روانگی اور منکرین ختم نبوت اور منکرین زکوٰۃ کے مقابلے میں جہاد کے معاملے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایسے اعتماد کامظاہرہ کیا جس کی تعریف حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے بہادر انسان نے کی۔ اسی طرح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے خود پر حملہ آور ہونے والوں کے مقابلے میں انتہا درجے کے ضبط نفس کا مظاہرہ کیا۔

حضرت عمر اور علی رضی اللہ عنہما کی شجاعت تو اتنی واضح ہے کہ وہ کسی بیان کی محتاج نہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے سے مسلمانوں کو قوت میں یہ فرق پڑا کہ وہ جو نیک کام پہلے چھپ چھپا کر کیا کرتے تھے، اب کھلے عام کرنے لگے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شجاعت غزوہ خندق میں کھل کر سامنے آئی جب انہوں نے عمرو بن عبد ود جیسے جنگجو کو قتل کیا جو اپنی جنگی مہارت کی بنا پر عرب میں ہزار سواروں کے برابر مانا جاتا ہے۔اسی طرح خیبر کے قلعے کی فتح میں آپ کا کردار شجاعت کی تابناک مثال ہے۔اسی طرح دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں شجاعت کے مختلف اوصاف پائے جاتے تھے۔ ان میں سیدنا زبیر بن عوام ، سیدنا سعد بن ابی وقاص، سیدنا ابو عبیدہ، سیدنا خالد بن ولید، سیدنا عمرو بن عاص، سیدنا سعد بن معاذ، سیدنا اسید بن حضیر ، سیدنا سعد بن عبادہ ، سیدنا زید بن حارثہ، سیدنا جعفر طیار ، سیدنا عبداللہ بن رواحہ ، سیدنا قعقاع بن عمرو، سیدنا عکرمہ بن ابو جہل اور سیدنا عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہم کی شخصیات نمایاں ہیں۔

شجاعت کا متضاد رویہ بزدلی اور نامردی کا ہے۔ چھوٹی چھوٹی سی باتوں پر پریشان ہونا، حقائق کا سامنا کرنے سے گھبرانا، دوسروں سے ڈر ڈر کر اور گھٹ گھٹ کر جینا بزدلی کی نشانیاں ہیں۔ اس سے نجات کا حل یہ ہے کہ اپنی شخصیت میں خود اعتمادی پیدا کیجئے۔ یہی خود اعتمادی اس کی بزدلی کے خاتمے کا سبب بنے گی۔ اس کا عملی طریقہ خود اعتمادی کے تحت بیان کردیا گیا ہے۔

شجاعت کے باب میں ایک اہم پہلو یہ ہے کہ انسان بہادری کے زعم میں حقیقت پسندی سے دور نہ بھاگے۔ ایسا نہ ہو کہ اپنی بہادری کی وجہ سے کوئی شخص اپنی صلاحیتوں کا غلط اندازہ (Over-estimate) لگا لے اور ایسی قوت سے قبل از وقت ٹکرا جائے جس سے مقابلے کی وہ صلاحیت نہ رکھتا ہو۔اس کا نتیجہ صرف اور صرف اپنی قوت کی تباہی کی صورت میں نکلتا ہے۔ شجاعت کے زعم میں زمینی حقائق کو نظر انداز کرنا خود کشی کے سوا کچھ نہیں۔بہادری کا صحیح پہلو یہ ہے کہ انسان اپنی صلاحیتوں کی ممکنہ حد تک حق کا علمبردار بنے اور کلمہ حق کو بلند کرنے کی کوشش کرے۔ اسی وجہ سے ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنے کو افضل ترین جہاد قرار دیا گیا ہے۔ ہمارے انبیاء کرام علیہم السلام اور بزرگان دین علیہم الرحمۃ کی سیرت ایسے واقعات سے بھری ہوئی ہے جب انہوں نے حق کے کلمے کو بلند کرنے کے لئے شدید مصائب اور ظلم و ستم کو برداشت کیا۔



انصاف پسندی

عدل و انصاف کو ہمارے دین میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ عدل کا معنی یہ ہے کہ حق دار کو اس کا حق دیا جائے ۔ دین میں عدل کا تقاضا اس قدر شدت سے کیا گیا ہے کہ اپنے ذاتی یا قومی یا دینی دشمنوں کے بارے میں ناانصافی کا کوئی رویہ بھی اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: یا ایھا الذین اٰمنوا کونوا قوّٰمین للّٰہ شھدآء بالقسط۔ ولا یجرمنکم شناٰن قوم علی الّا تعدلوا۔ اعدلوا۔ ھو اقرب للتقوٰی ۔ و اتقوا اللّٰہ۔ ان اللّٰہ خبیر بما تعملون۔ (المائدہ ۵: ۸) ’’اے ایمان والو! تم اللہ کی خاطر حق پر قائم ہو جاؤ اور سچائی اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بن جاؤ۔ کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم عدل نہ کرو۔ یہ (عدل) تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو ۔ بے شک اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔‘‘

اس آیت کا سیاق و سباق یہ بتاتا ہے کہ یہاں خاص طور پر اس دشمنی کا تذکرہ ہے جو دین کی بنیاد پر ہو۔ ظاہر ہے یہ دشمنی کی سخت ترین شکل ہے جس میں بھی مسلمانوں کو ناانصافی اور انتہا پسندی سے روکا گیا ہے۔

اگر ہم اپنے رویوں کا جائزہ لیں تو یہ بات واضح ہو گی کہ قرآن مجید کی واضح رہنمائی کے باوجود ہمارے ہاں انصاف پسندی کا شدید فقدان ہے۔ عدالتی انصاف کی بات تو جانے دیجئے، اپنی روزمرہ زندگی میں ہم بارہا عدل و انصاف کا خون کرتے ہیں۔ سڑک پر چلتے ہوئے ہم میں سے کتنے دین دار افراد ہی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرکے دوسروں کی حق تلفی کرتے ہیں۔ اسی طرح دکاندار چیز کے پیسے تو پورے وصول کرتے ہیں لیکن چیز کے معیار یا مقدار میں کمی کردیتے ہیں۔ اپنے کاروباری معاملات میں Cashflow کی حالت کو بہتر بنانے کے لئے معاہدے کے خلاف رقوم کی ادائیگی میں تاخیرعام سی بات ہے جس میں چھوٹے چھوٹے دکانداروں سے لے کر بڑی بڑی کمپنیاں بھی ملوث ہیں۔ ہمارے بہت سے لوگ تعدد ازدواج کی اجازت کے استعمال میں بہت بے باک ہیں لیکن قرآن مجید کے حکم کے مطابق ان میں عدل و انصاف کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، بالعموم نئی بیویوں کے نخرے اٹھائے جاتے ہیں اور پرانی بیوی کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ جب لوگ قطار میں کھڑے ہوتے ہیں تو بہت سے لوگ ان کی حق تلفی کرتے ہوئے درمیان میں گھسنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ہمیں صرف اور صرف دوسروں کی غلطیاں ہی نظر آتی ہیں اور اپنی غلطیوں سے صرف نظر کرتے ہیں۔ کسی اختلاف بالخصوص دینی مسئلے میں اختلاف کی صورت میں دوسروں کی بات سننا ہمیں گوارا نہیں ہوتا۔ شاید ہم یہ سمجھتے ہیں کہ میں اتفاقا جس عقیدے اور مسلک میں پیدا ہوا وہی حق ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر ان لوگوں کا کیا قصور ہے جو کسی دوسرے مذہب یا مسلک والوں کے گھر پیدا ہوئے اور اپنے ہی نقطہ نظر کو درست سمجھتے ہیں۔ اگر ہم انہیں غلط سمجھتے ہیں تو ہمیں اپنے آبائی مسلک و عقیدے پر بھی ایک حق کے سچے متلاشی کی حیثیت سے نظر ثانی کر لینا چاہئے۔

ہمارا رویہ بالعموم یہ ہوتا ہے کہ اگر مخالف مسلک کا کوئی شخص تحقیق پر آمادہ ہو اور اس کے لئے ہمارے مسلک کو سمجھنا چاہے تو ہم اسے سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں لیکن اگر ہمارے مسلک سے تعلق رکھنے والا کوئی طالب علم دوسرے مسلک کی کتابوں کا مطالعہ بھی شروع کردے تو ہم ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ مخالف مسلک کی کوئی کتاب پڑھنا یا ان کے کسی عالم کی بات سننا ہی ہمارے نزدیک گمراہی ہے۔ ابتدا ہی سے ہمارے ذہنوں میں یہ داخل کیا جاتا ہے کہ فلاں مشرک ہے ، فلاں بدعتی ہے یا فلاں گستاخ رسول ہے۔ اس کی کوئی بات سننایا اس کی کتاب پڑھنا ناجائز ہے کیونکہ اس سے گمراہ ہونے کا خطرہ ہے۔ بعض لوگوں کے نزدیک تو دوسرے مسلک کے کسی شخص کو سلام کرنے یا اس سے مصافحہ کرنے سے ہی نکاح فاسد ہو جاتا ہے۔

ہمارا دین عدل و انصاف کا علم بردار ہے اور اسی کا حکم دیتا ہے۔ کیا دنیا کی کوئی عدالت بھی کسی ملزم کی بات سنے بغیر اسے مجرم قرار دے کر سزا سناتی ہے؟ بدقسمتی سے ہمارے عام مسلمان عدل و انصاف کے علم بردار کہلانے کے ساتھ ساتھ دوسرے مسلک کے لوگوں کی بات سنے بغیر ان کے متعلق کفر، شرک، بدعت اور گستاخی رسول کا فتویٰ جاری کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے۔ یہاں تک کہ مخالف مسلک کے کسی شخص کو قتل کر دینا کوئی گناہ ہی سمجھا نہیں جاتا بلکہ عین کار ثواب سمجھا جاتا ہے۔ ایسا کرنے میں کسی مسلک کی تخصیص نہیں بلکہ سب ہی مسالک کے لوگوں میں یہ چیز پائی جاتی ہے۔ اس بات کو سب ہی بھول جاتے ہیں کہ اس طرح وہ عدل و انصاف کا خون کرنے میں مصروف ہیں۔

اگر ہم قرآن مجید پر سچا ایمان رکھتے ہیںتو ہمیں حقیقی معنوں میں حق اور انصاف پسندی کو اپنی شخصیت کا جزو بنانا ہوگا۔ انصاف پر کسی قسم کا کوئی کمپرومائز نہیں ہونا چاہئے۔ جس بات کو ہم حق اور انصاف سمجھتے ہیں، اپنی استطاعت کے مطابق اس پر ڈٹ جانا اور اس کے مقابلے میں کسی ملامت کی پرواہ نہ کرنا وہ رویہ ہے جس کا تقاضا ہم سے دین میں کیا گیا ہے۔ اگر ہم اپنی روزمرہ دینی اور دنیاوی زندگیوں میں ناانصافی کو چھوڑنا شروع کردیں تو بہت جلد ہماری اجتماعی زندگیوں میں حق اور انصاف کا بول بالا ہوگااور ہمارے حکمران اور عدالتیں بھی انصاف کے قائم کرنے والے بن جائیں گے لیکن اپنے رویے کی اصلاح کی بجائے اگر ہم حکومت ہی کو کوستے رہے تو حالات ایسے ہی رہیں گے بلکہ اس سے بھی بدتر ہوتے جائیں گے۔



کامیابی کی لگن

اپنی شخصیت کو بہتر بنانے کے لئے اس میں جینے کی امنگ اور کامیابی کی لگن پیدا کرنا ضروری ہے۔ جس شخص میں اس کا فقدان ہو وہ کوئی بڑا کارنامہ تو کیا، چھوٹا سا کام بھی انجام نہیں دے سکتا۔ خود میں کامیابی کی امنگ پیدا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس بات پر غور کیجئے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس دنیا میں کیوں بھیجا ہے۔ میرے سامنے کیا چیلنج درپیش ہے جس سے عہدہ برا ہونا میرے لئے ضروری ہے۔ اس کے بعد اپنے سامنے چھوٹے چھوٹے چیلنج رکھئے اور اپنی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں پر خوش ہونا سیکھئے۔

بعض لوگوں کی ناکامیاں ان میں کامیابی کی لگن کو ختم کردیتی ہیں۔ ناکامی ہوتے وقت اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ کامیابی و ناکامی دونوں ہی اس زندگی کے اہم پہلو ہیں۔ اگر آج میں کسی مقصد کے حصول میں ناکام رہا ہوں تو ضروری نہیں کہ کل بھی ایسا ہی ہو۔ ناکامی کا ایک روشن پہلو یہ ہوتا ہے کہ انسان کو اس میں اپنی خامیوں کے تجزیے کا موقع مل جاتا ہے۔ کامیابی کے بارے میں اپنی توقعات کو بھی بہت زیادہ غیر حقیقی نہ بنائیے ورنہ کامیابی بھی ناکامی ہی محسوس ہوگی۔ کامیابی کی لگن اچھی چیز ہے لیکن اگر اس میں انتہا پسندی آجائے تو انسان بہت زیادہ جذباتی ہو جاتا ہے اور ناکام ہونے پر وہ بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتا ہے۔



بخل اور سخاوت

انسانی شخصیت بعض اوقات جن بیماریوں کا شکار ہو جاتی ہے، ان میں سے ایک بخل ہے۔ اس کا بالکل عکس سخاوت ہے۔ بخل کا معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں بالخصوص مال و دولت انسان کو عطا کی ہیں وہ انہیں استعمال کرنے میں کنجوسی کا مظاہرہ کرے اور جہاں انہیں خرچ کرنا ضروری ہو، وہاں خرچ کرنے سے گریز کرے۔مثلاً ایک شخص انتہائی دولت مند ہونے کے باوجود پھٹے پرانے کپڑے پہنتا ہے اور اپنے بچوں کو بھی اس پر مجبور کرتا ہے یا روکھا سوکھا کھاتا ہے تو یہ بخل ہے۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی بات کی تعلیم دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں انسان کو دی ہیں ، ان کے اثرات اس کی شخصیت پر بھی ظاہر ہونے چاہئیں۔ بخل کی ایک بڑی مثال اس وقت دیکھنے میں آتی ہے جب ہم ضرورت مندوں کی مدد کرتے ہیں۔ اگر ہمارے پاس کوئی حقیقی ضرورت مند آجائے تو اسے کچھ وقت ہمیں اپنی تمام ضروریات یاد آجاتی ہیں لیکن اپنی عیاشیوں کے وقت ہم کوئی نہ کوئی جواز ضرور گھڑ لیتے ہیں۔ اگر ہم کسی ضرورت مند کی مدد کر بھی دیں تو ہماری یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ ساری عمر ہمارے احسان کے بوجھ تلے دبا رہے اور ہمارا غلام بن کر رہے۔

شخصیت کے اسی پہلو کی دوسری انتہا اسراف اور تبذیر ہے۔ انسان اپنی خواہشات کا اتنا غلام بن جائے کہ وہ ان کی تکمیل کے لئے دولت کو ضائع کرنا شروع کر دے۔ قرآن میں ایسے لوگوں کو شیطان کا بھائی کہا گیا ہے۔ پر تعیش زندگی (Luxurious Life) کی بہت سی مثالیں ہمارے معاشرے میں پائی جاتی ہیں۔ ہمارے بہت سے بھائی اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے تو ہزاروں لاکھوں خرچ کر دیتے ہیں لیکن انہیں ان غریبوں کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی جن کے بچے بھوک سے بلک رہے ہوتے ہیں۔

دین ہمیں انتہا پسندی کے ان رویوں سے بچ کر ہمیں اعتدال کی راہ اپنانے کی تلقین کرتا ہے۔ جہاں خرچ کرنا چاہئے وہاں خرچ نہ کرنا بخل ہے اور جہاں خرچ نہیں کرنا چاہئے وہاں خرچ کرنا اسراف ہے۔ سخاوت اور دریا دلی اس کا نام ہے کہ جہاں خرچ کرنا چاہئے وہاں انسان خرچ کرنے سے نہ گھبرائے بلکہ دل کھول کر خرچ کرے اور اسراف سے ہر صورت میں بچے۔



لالچ اور قناعت

اسی قسم کا ایک رویہ لالچ اور حرص ہے۔ بخل دراصل انسان کی دولت کے مناسب Outflow کی راہ میں رکاوٹ ہے جبکہ لالچ اس کے غیر مناسب Inflow کی خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔ انسان کسی چیز بالخصوص دولت کے حصول کے لئے اتنا حریص ہو جاتا ہے کہ وہ حصول کے جائز اور ناجائز طریقوں کی پرواہ نہیں کرتا اور ہر طرح سے اپنی تجوریوں کو بھرنے کی فکر کرتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بالعموم کرپشن کا جو ناسور پھیلتا جارہا ہے اس کی وجہ یہی رویہ ہے۔

ہمارے دین میں دولت کی خواہش کو تو برا قرار نہیں دیا گیا بلکہ زندگی میں ایک اہم محرک کے طور پر اسے تسلیم کیا گیا ہے لیکن اس معاملے میں انتہا پسندی کے تمام رویوں کو غلط قرار دیا گیا ہے۔ حرص و طمع سے بچ کر انسان دولت کے حصول کی جائز طریقوں سے کوشش کر سکتا ہے بشرطیکہ اس میں دوسروں کے حقوق پامال نہ کرے۔ اسی رویے کا نام قناعت ہے۔

ہمارے ہاں بعض لوگ قناعت کا معنی یہ سمجھتے ہیں کہ انسان اپنی غربت ہی کو اختیار کئے رکھے اور دولت کے حصول کے جائز طریقوں سے بھی گریز کرے۔ اس نقطہ نظر کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ رہبانیت کا پیدا کردہ رویہ ہے۔ اسلام میں قناعت کا یہ مفہوم ہے کہ انسان دولت کے حصول کے ناجائز طریقوں سے بچے اور جائز طریقوں سے جو دولت حاصل ہو جائے اس پر خدا کا شکر ادا کرے۔

ناجائز طریقوں سے دولت کے حصول سے بچنے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ جائز طریقوں سے مناسب مال کمانے کے لئے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائے۔ یہ چیز ان نوجوانوں کے لئے بہت اہمیت کی حامل ہے جو اپنے لئے کیریئر کا انتخاب کرنے کا فیصلہ کرنے والے ہیں۔ اپنے لئے ہمیشہ ایسے ہی کیریئر کا انتخاب کیجئے جہاں آپ کے لئے رزق حلا ل کمانے کے بہتر مواقع اور حرام سے بچنے کی بہتر سہولتیں میسر ہوں۔ ہمارے ماحول میں بہت سی ایسی نوکریاں بھی ہیں جہاں حلال تو مشکل سے ہی ملتا ہے اور بہت کم ملتا ہے البتہ حرام کمانے کے مواقع بے شمار ہوتے ہیں۔ آج کل کی سرکاری نوکریاں اس کی بدترین مثال ہیں۔ کیریئر کے انتخاب کے وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہیے اور اچھے لوگوں سے مشورہ ضرور طلب کیجئے۔



عادات و خصائل

انسان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو اس کی عادات و خصائل ہیں۔ عادات سے مراد انسان کے وہ ایک ہی طرز کے رویے ہیں جن کے تحت وہ مخصوص حالات میں ایک ہی رد عمل کا مظاہرہ کرتا ہے۔ تقریباً بارہ سال کی عمر کے بعد جب انسان کی شخصیت کا غیر مادی وجود نشوونما پارہا ہوتا ہے تو اس کی عادتوں کی تشکیل بڑی تیزی سے ہوتی ہے۔ عمر کے ساتھ ساتھ یہ عادتیں پختہ ہوتی جاتی ہیں۔ بڑی عمر میں ان عادتوں کو تبدیل کرنا خاصا مشکل ہوتا ہے۔ کھانے پینے، رہنے سہنے، ملنے جلنے ، سونے جاگنے، جنسی خواہش کی تکمیل کرنے اور زندگی کے دیگر معاملات کے بارے میں ہر انسان مخصوص رویوں کو عادی ہو جاتا ہے۔

اگر آپ عمر کے اس حصے سے گزر رہے ہیں یا گزرنے والے ہیں تو اچھی عادتوں کو اپنانا اور بری عادتوں سے بچنا آپ کے لئے خاصا آسان ہوگا کیونکہ شخصیت کی تعمیر کا کام ابھی تیزی سے جاری ہوگا ۔ اس معاملے میں اپنے والدین، اساتذہ اور اچھے دوستوں سے رہنمائی حاصل کیجئے۔ اس عمر میں برے دوستوں سے پرہیز انتہائی ضروری ہے خواہ آپ کو وہ کتنے ہی پر کشش کیوں نہ محسوس ہوں کیونکہ یہی کسی شخص میں بری عادتوں کے پختہ ہونے کا باعث بنتے ہیں۔

اگر آپ عمر کے اس حصے سے گزر چکے ہیں تو بری عادتوں کو تبدیل کرنا اگرچہ خاصا مشکل کام ہے لیکن یہ کرنا آپ کی باقی زندگی کو اچھے اندازمیں گزارنے کے لئے ناگزیر ہے۔ آپ اپنی خود اعتمادی کے ذریعے ان بری عادتوں کو شکست دے سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں اگر ضرورت ہو تو کسی ماہر نفسیات سے بھی مشورہ کیا جاسکتا ہے بالخصوص ہپناٹزم کے ماہرین اس سلسلے میں خاصی مدد کر سکتے ہیں۔ بری عادتوں کی ایک جامع و مانع فہرست بنانا خاصا مشکل کام ہے لیکن ہم میں اچھائی اور برائی کا اتنا شعور ضرور موجود ہے کہ اس کی مدد سے ہم اچھی و بری عادتوں میں تمیز کر سکیں۔ ہمارے معاشرے میں پائی جانے والی عام بری عادتوں میں جھوٹ بولنا، غیبت کرنا، عیب جوئی کرنا، دوسروں کی کھوج میں رہنا، جنسی بے اعتدالی کا مظاہرہ کرنا،بات بات پر لڑنے کے لئے تیار رہنا، سونے میں بے اعتدالی کا مظاہرہ کرنا شامل ہے۔



فنی اور پیشہ ورانہ مہارت

کسی بھی فرد کی معاشی زندگی میں اس کی فنی اور پیشہ ورانہ مہارت کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ آپ جو بھی پیشہ اختیار کرنے جارہے ہیں ، اس میں درکار مناسب صلاحیتوں کا فقدان ایک طرف آپ کی اپنے ہم پیشہ افراد میں عزت کو کم کرسکتا ہے اور دوسری طرف آپ کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بھی بن سکتا ہے۔ پیشے کے انتخاب سے پہلے یہ دیکھ لیجئے کہ کہیں یہ پیشہ آپ کے ذاتی رجحانات سے بالکل ہی متضاد تو نہیں؟ ہمیشہ اس پیشے کا انتخاب کیجئے جو آپ کی فطری صلاحیتوں سے ہم آہنگ ہو۔ یہی چیز آپ کو فنی اور تکنیکی اعتبار سے مضبوط بنا دے گی اور انشاء اللہ آپ کی ترقی کی راہ میں بہت آگے تک لے جائے گی۔ پیشے سے ناانصافی کرنا دنیا والوں کی نظر میں بھی ایک بری چیز ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی ناپسندیدہ عمل ہے۔

اپنے پیشے میں مہارت حاصل کرنے کے لئے شوق اور لگن کی ضرورت ہے۔ اس سے متعلق صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لئے کتب کا مطالعہ، ماہر لوگوں کی صحبت اور مختلف کورسز میں شرکت ضروری ہے۔ اس ضمن میں جو رقم بھی خرچ ہو ، وہ آپ کی اپنی ذات میں سرمایہ کاری ہے۔



جنسی جذبہ

کسی انسان میں جنسی جذبے کا ہونا ایک نارمل اور فطری سی بات ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے ہمیں بھوک اور پیاس لگتی ہے۔ اس جذبے کے معاملے میں اہل مغرب کا رویہ اور کردار انتہاپسندانہ ہے جس کے نتیجے میں وہاں جنسی بے راہ روی ، جنسی مسائل اور امراض بہت زیادہ پائے جاتے ہیں۔ ہمارے معاشرے کا جنس کے بارے میں رویہ عجیب و غریب ہے۔ ہمارے ہاں جنس کے بارے میں ایک شدید قسم کی گھٹن پائی جاتی ہے۔

ایک طرف تو روایتی طور پر جنس کے موضوع پر گفتگوکرنا، کوئی کتاب پڑھنا اور اشاروں کنایوں میں بھی اس کا ذکر کرنا بہت معیوب بلکہ ایک غلیظ عمل سمجھا جاتا ہے لیکن دوسری طرف اہل مغرب اور اب اہل ہندوستان کی پیروی میں ہمارے یہاں جنسی خواہش کو ابھارنے والے بلکہ بھڑکانے والے عوامل بہت کثرت سے پائے جاتے ہیں جن میں ہمارا میڈیا سر فہرست ہے۔ ہمارے دین میں شادی کے بغیر ازدواجی تعلقات کو سخت گناہ قرار دیا گیا ہے لیکن اس کے برعکس ہمارے یہاں شادی کو مصیبت بنا دیا گیا ہے۔

سخت اور انتہائی نامعقول رسوم و رواج کی وجہ سے شادی کرنا بہت ہی مشکل کام بن چکا ہے۔ ہمارے معاشرے میں شادیاں اس وقت کی جاتی ہیں جب کوئی انسان اپنے جنسی جذبے کا دور عروج گزار کر بڑھاپے کا منتظر ہوتا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی پیاسے کو اس وقت پانی پلایا جائے جب اس کی پیاس کی شدت ختم ہو چکی ہو۔ ان سب کے ساتھ ساتھ جنسی بے راہ روی کے لئے مواقع بڑھتے جارہے ہیں۔ اس پر طرہ یہ کہ جنس کے بارے میں نوجوانوں کو درست معلومات فراہم نہیں کی جاتیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے نوجوان لڑکے لڑکیوں میں جنسی مسائل بڑھتے جارہے ہیں اور پورا معاشرہ ایک عجیب تضاد کا شکار ہے۔ان حالات کی وجہ سے جو جنسی مسائل اور عوارض پیدا ہو رہے ہیں یا ہو سکتے ہیں، ان کی کچھ تفصیل یہ ہے:



• نوجوان لڑکے لڑکیوں میں شادی کے بغیر ازدواجی تعلقات قائم کرنا

• نوجوانوں میں ہم جنس پرستی (Homosexualism & Lesbianism) کا فروغ

• تیسری جنس سے جنسی تسکین کا حصول

• جانوروں کے ساتھ جنسی فعل کا عارضہ (Bestiality)

• بچوں پر جنسی تشدد (Paedophilia)

• مخالف جنس کے کردار اور رویے اختیار کرنا (Trans Sexualism)

• اپنے جنسی اعضاء اور افعال کی نمائش کرنا (Exhibitionism)

• جنسی اذیت پسندی یعنی جنس مخالف یا خود کو اذیت پہنچا کر جنسی تسکین حاصل کرنا (Sadism & Masochism)



ان میں سے تقریباً تمام جنسی عوارض ہمارے معاشرے کے مختلف افراد میں پائے جاتے ہیں۔ جنس مخالف کے ساتھ تعلقات تو ابھی ہمارے معاشرے میں اتنے عام نہیں ہوئے جتنے اہل مغرب کے ہاں ہیں لیکن ہم جنس پرستی خفیہ طور پر طویل عرصے سے پائی جاتی ہے۔ بہت سے نوجوانوں میں جنس مخالف کے رویے اپنانے کی وبا بھی کافی پھیل چکی ہے اور اس کا شکار عموماً امیر طبقے کے نوجوان ہو رہے ہیں۔

بچوں پر جنسی تشدد اور جنسی اذیت پسندی جیسے گھناؤنے جرم کے واقعات اگرچہ کم ہیں لیکن پچھلے چند سالوں میں ان کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان جرائم کی شدت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جس کی ایک بڑی مثال لاہور میں سو بچوں پر تشدد اور ان کے بہیمانہ قتل کا واقعہ ہے۔ ان میں سے بہت سے جرائم قدیم دور سے پائے جاتے ہیں لیکن دور جدید میں میڈیا کے غلط کردار نے ان میں بہت تیزی سے اضافہ کیا ہے۔

ان تمام مسائل سے محفوظ رہنے کا واحد اور مستقل حل تو یہی ہے کہ شادی مناسب عمر میں کر لی جائے۔ بدقسمتی سے اس مسئلے پر معاشرتی دباؤ اس قدر زیادہ ہے کہ شادیوں میں خواہ مخواہ تاخیر ہوجاتی ہے۔ یہ مسئلہ خواتین کی نسبت مرد حضرات کے ساتھ زیادہ پیش آتا ہے۔ کم از کم وہ لوگ جو دینی ذہن رکھتے ہیں اور خاندان اور معاشرے کے دباؤ کی پرواہ نہیں کرتے، انہیں یہ ضرور چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کی جلد شادیاں کردیں۔ یہ بات تو اب نوشتہ دیوار ہے کہ اگر ہمارے یہاں میڈیا کے کردار کو درست نہ کیا گیا اور اس کے ساتھ ساتھ شادیوں میں تاخیر کا رویہ رکھا گیا تو صرف چند ہی سالوں میں ہمارا معاشرہ شدید قسم کی جنسی انارکی کا شکار ہو جائے گا او راس کی شدت مغربی معاشروں کی نسبت کہیں زیادہ ہو گی۔

جو لوگ اپنی نسل کے ساتھ مخلص ہوں ، ان پر یہ بات اب فرض کے درجے میں لازم ہوتی ہے کہ وہ اپنی اولاد کی جلد از جلد شادی کردیں۔ یہ درست ہے کہ جلد شادی سے کئی معاشی اور نفسیاتی مسائل پیدا ہو جاتے ہیں لیکن ان مسائل کی اہمیت ان مسائل کے سامنے نہ ہونے کے برابر ہے جو دیر سے شادی کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔ اگر قناعت کا رویہ اختیار کیا جائے تو ان مسائل کو باآسانی حل کیا جاسکتا ہے۔ خاص طور پر ایسے والدین جو مالی اعتبار سے مستحکم ہیں، اپنی اولاد کی شادی کے بعد بھی ان کا بوجھ اٹھا سکتے ہیں۔

وہ نوجوان جو ان مسائل سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں، انفرادی طور پر کئی اور طریقوں سے اپنی خواہش کو کم کر سکتے ہیں۔ اس میں دینی ماحول سے تعلق رکھنا، بکثرت نفلی روزے رکھنا اور ذہن کو مثبت سرگرمیوں میں لگانا شامل ہے۔

ایسے افراد جو خدانخواستہ کسی جنسی عارضے کا شکار ہو چکے ہیں اور اب توبہ کرکے اس سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں، انہیں چاہئے کہ اس مسئلے پر ماہرین نفسیات اور ماہرین امراض جنسیات سے رجوع کریں۔ ابھی تک ہمارے یہاں ایسے اسپیشلسٹ کلینک قائم نہیں ہوسکے جہاں خاص طور پر جنسی امراض کا علاج کیا جاتا ہو لیکن ایسے ماہرین بہرحال موجود ہیں جو ان معاملات پر اتھارٹی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی ایک مثال ڈاکٹر ارشد جاوید صاحب ہیں جو لاہور میں ان مسائل کے حال کے لئے کام کر رہے ہیں۔

اس بات کا خیال رہے کہ ایسی صورتوں میں جھاڑ پھونک کرنے والے پیروں ، نام نہاد پروفیسروں اور اشتہار باز حکیموں سے مکمل طور پر اجتناب کیجئے کیونکہ یہ لوگ بالعموم اسٹیرائڈز پر مشتمل شدید نقصان دہ ادویات کے ذریعے علاج کرتے ہیں جو اگر چہ بسا اوقات وقتی طور پر تو مسئلے کو حل کر دیتی ہیں لیکن طویل عرصے میں جسمانی و ذہنی صحت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتی ہیں۔



غصہ اور جارحیت

جنسی جذبے کی طرح غصہ اور جارحیت بھی ایک فطری جذبہ ہے جو انسان میں اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اسے کسی مقصد کے حصول میں رکاوٹ پیش آئے ہو یا اپنی خواہش اور رضا مندی سے وہ جو کچھ کرنا چاہے نہ کر سکے۔ اس فطری جذبے کو عموماً ہمارے ہاں برا سمجھا جاتا ہے حالانکہ اس کا صرف غلط استعمال ہی برا ہوتا ہے۔ جارحیت کا غلط استعمال وہی ہوتا ہے جسے ہم اپنی روزمرہ زندگی میں دیکھتے ہیں کہ لوگ غصہ آنے پر گالی گلوچ، غیبت یا پھر لڑنے جھگڑنے پر اتر آتے ہیں۔اسی کے نتیجے میں بہت مرتبہ ایک فریق دوسرے پر زیادتی بھی کر جاتا ہے۔ دنیا بھر میں تخریب کاری اور دہشت گردی اسی جذبے کے تحت ہوتی ہے۔

جارحیت کے جذبے کا صحیح استعمال یہ ہے کہ کسی جائز خواہش کی تکمیل میں اگر رکاوٹ پیدا ہو جائے تو اس سے پیدا ہونے والے جذبے کو مثبت رخ پر موڑ کر اسے قوت عمل میں تبدیل کر دیا جائے اور اس سے بڑے بڑے کارنامے انجام دیے جائیں۔ اس کی مثال یہ ہے کہ اگر کسی ادارے میں ایک شخص کی ترقی کی راہ میں کوئی رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے تو وہ اس سے لڑائی جھگڑا کرنے کی بجائے جارحیت کے جذبے کو اپنی صلاحیتوں کے بھرپور استعمال میں خرچ کرتے ہوئے اپنی اہلیت کو ثابت کرے۔

دین اسلام نے غصے کے بارے میں بھی رہنمائی کی ہے۔ قرآن مجید اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے مطالعے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شدید غصے کی حالت میں انسان کو خود کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرنا چاہئے اور اس حالت میں کسی فیصلے سے اجتناب کرنا چاہئے۔ اس حالت میں بھی معاف کر دینا سب سے بہتر ہے: و الکاظمین الغیظ وا لعافین عن الناس و اللہ یحب المحسنین۔ (اٰل عمران3:134 ) ’’ایسے لوگ جو غصے پر قابو پانے والے ہوں اور لوگوں کو معاف کرنے والے ہوں، بے شک اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ ‘‘

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غصے کی حالت کے بارے میں تلقین فرمائی ہے کہ ایسا شخص اگر کھڑا ہو تو بیٹھ جائے اور بیٹھا ہو تو لیٹ جائے۔ اس طرح اس کے غصے کی شدت کم ہوگی۔ اسی طرح بعض روایات میں ایسی حالت میں وضو کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ غصے کی شدت کنٹرول ہو۔

اگر ہم اپنے دائرہ کار میں کوئی برائی یا ظلم دیکھیں تو اسے ختم کرنے کی آرزو ہمارے اندر پیدا ہونی چاہئے۔ اس صورت میں بھی آپے سے باہر ہونا، اپنی حدود سے متجاوز کرنا اور دوسروں سے لڑائی جھگڑا کرنا درست نہیں۔ انسان کو ہمیشہ کوئی اقدام کرتے وقت خود کو ٹھنڈا رکھنا چاہئے اور کبھی بھی اپنی قانونی اور اخلاقی حدود سے تجاوز نہیں کرنا چاہئے۔

مثلاً ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی شخص معاشرے میں بے حیائی اور منشیات پھیلا رہا ہے۔ ایسی صورت میں اس سے ڈائرکٹ تصادم کی بجائے بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس کے بارے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اطلاع دی جائے یا پھر معاشرے میں اس کے بائیکاٹ کی مہم چلائی جائے اور انہیں اس چیز کے نقصانات سے آگاہ کیا جائے۔ بعض لوگ ان اداروں کی نااہلی اور کرپشن کو بنیاد بنا کر خود لڑائی جھگڑا کرنے پر اتر آتے ہیں۔ ان کا یہ طرز عمل درست نہیں کیونکہ ہمیں اتنا ہی کام کرنا چاہئے جتنے کا ہم سے تقاضا کیا گیا ہے۔ اپنی قانونی و اخلاقی حدود سے تجاوز کرکے ہم خود ایک نئے غلط کام کا آغاز کر رہے ہوتے ہیں جس کے نتائج بسا اوقات اس سے کہیں برے نکلتے ہیں جو اس شخص کے کام سے نکل سکتے ہوں۔



مایوسی و تشویش (Frustration)

مایوسی اس صورت میں پیدا ہوتی ہے جب ہماری کسی خواہش کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہوجائے اور ہمیں اس کے لئے کوئی متبادل راستہ بھی نظر نہ آرہا ہو۔ خواہش کی شدت اور دوسروں سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کرنا مایوسی کی شدت میں بہت زیادہ اضافہ کر دیتا ہے۔ مایوسی کو کم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ انسان دوسروں سے زیادہ توقعات وابستہ نہ کرے اور خواہش پوری نہ ہونے کی صورت میں تھک کر نہ بیٹھ جائے بلکہ اس کے لئے دوسرے متبادل ذرائع تلاش کر تا رہے۔

دین اسلام اس سلسلے میں ہماری رہنمائی کرتا ہے اور ہمیں اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہونے کا درس دیتا ہے: قل یا عبادی الذین اسرفوا علیٰ انفسھم لا تقنطوا من رحمۃ اللّٰہ۔ ان اللّٰہ یغفر الذنوب جمیعا۔ ’’ اے نبی آپ میری طرف سے فرما دیجئے کہ اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا۔ بے شک اللہ تمام گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔‘‘اس موضوع پر ہم نے تفصیل سے اپنی تحریر ’’مایوسی سے نجات کیسے؟‘‘ میں بحث کی ہے۔



خوشی و غمی

یہ زندگی کا وہ پہلو ہے جس کا سامنا ہمیں کرنا ہی پڑتا ہے۔ ہر انسان کو اس زندگی میں بہت سے دکھ جھیلنا پڑتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ بہت سی خوشیاں بھی سمیٹتا ہے۔ خوشی و غمی میں ہمارا رویہ ہماری شخصیت کا اہم ترین جزو ہے۔ بعض لوگ خوشی ملنے پر آپے سے باہر ہو جاتے ہیں اور اپنی خوشی کے اظہار کے وہ طریقے اختیار کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔ اسی طرح غمی کے موقع پر بھی چیخ و پکار اور رونا دھونا شروع کر دیتے ہیں۔

قرآن مجید اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ سے ہمیں اس معاملے میں یہ رہنمائی ملتی ہے کہ خوشی کے موقع پراللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے اور غمی کے موقع پر صبر کیا جائے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خوشی کے موقع پر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے اور نماز پڑھ کر، صدقہ وخیرات کرکے اور قربانی دے کر اپنی خوشی کا اظہار فرماتے۔ عیدین کے موقع پر اسی لئے صدقہ فطر اور قربانی کو صاحب حیثیت لوگوں کے لئے لازم قرار دیا گیا ہے۔

اسی طرح آپ کو بہت سے مواقع پر شدید دکھ کا سامنا بھی کرنا پڑاان میں اہل طائف کی سرکشی، غزوہ احد میں ستر صحابہ رضی اللہ عنہم کی شہادت، آپ کی صاحبزادیوں سیدتنا زینب و رقیہ رضی اللہ عنہما اور صاحبزادوں کا انتقال اور دیگر کئی مواقع شامل ہیں۔ سیرت طیبہ کے مطالعے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے ہر موقع پر آپ نے اپنے رب کی طرف رجوع کیا اور صبر کیا۔ یہی وجہ ہے کہ دین میں ایسے تمام مواقع پر چیخ و پکار، نوحہ اور بین کرنے سے منع کیا گیا ہے۔



محبت و نفرت

محبت و نفرت بھی انسان کی شخصیت کے اہم پہلو ہیں۔ ہم بہت سی چیزوں کو پسند یا ناپسند کرتے ہیں۔ یہی جذبے کچھ شدت اختیار کرکے محبت اور نفرت اور پھر اس سے بھی بڑھ کر عشق اور شدید نفرت کی شکل اختیار کر جاتے ہیں۔ اگر تو یہ جذبے اپنی فطری حدود میں رہیں تب تو ٹھیک ہے لیکن ان میں حدود سے تجاوز انسان کی شخصیت کو بری طرح مسخ کردیتا ہے۔ آپ نے یقینا ایسے کئی لوگ دیکھے ہوں گے جو عشق یا نفرت کی شدت کا شکار ہو کر اپنی پوری زندگی تباہ کربیٹھے یا پھر اس سے ہاتھ ہی دھو بیٹھے۔

ان جذبوں کو اپنی حدود میں رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ ان کا رخ موڑ کر صحیح سمت میں لگا دیا جائے۔ انسان کی محبت کا محور و مرکز اللہ تعالیٰ کی ہستی ہونا چاہئے جس نے اسے پیدا فرمایا اور اس کی ہر ہر ضرورت کا ایسا خیال رکھتا ہے جو اور کوئی نہیں رکھ سکتا۔ بعض انسان بڑے ناشکرے ہوتے ہیں اور وہ اپنے رب کے ساتھ شریک بنا کر ان سے محبت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: و من الناس من یتخذ من دون اللّٰہ اندادا یحبونھم کحب اللہ، والذین اٰمنوا اشد حبا للہ ۔ (البقرہ 2:165) ’’انسانوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو اللہ کے ساتھ کچھ شریک بنا لیتے ہیں اور ان سے ایسے محبت کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ سے کرنا چاہئے، (ان کے برعکس) اہل ایمان اللہ تعالیٰ سے شدید محبت کرتے ہیں۔ ‘‘

اللہ تعالیٰ سے محبت ہی کی اہم ترین شکل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ تعالیٰ کے بندے اور آخری رسول ہیں۔ آپ کی محبت کے بغیر ایمان کامل نہیں ہو سکتا اور یہ اللہ تعالیٰ ہی کی محبت ہے۔ اس محبت کے بارے میں ہمارے ہاں افراط و تفریط کے رویے پائے جاتے ہیں۔ ۔بعض لوگ اپنی حماقت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو اللہ تعالیٰ کی محبت سے الگ سمجھتے ہیں اور پھر رسول کا مقابلہ اللہ تعالیٰ سے کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ لوگ ایک طرف تو آپ کو اپنی محبت کے غلو میں خدا کا شریک دیتے ہیں اور دوسری طرف شخصی محبت کا دعویٰ کرنے کے باوجود آپ کی تعلیمات کی پیروی بھی نہیں کرتے حالانکہ محبت بغیر اتباع کے محض دکھاوا اور فریب ہے۔

اسی طرح کچھ دوسرے لوگ آپ کی محبت کو محض اتباع سنت ہی قرار دیتے ہیں اور آپ کے ساتھ محبت کے ذاتی تعلق کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ یہ دونوں راستے غلط ہیں۔ جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کے ساتھ محبت و عقیدت ایک عظیم نعمت ہے وہاں اس کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اپنے ہر معاملے میں آپ کی اتباع اور پیروی کی جائے۔اسی محبت کی ایک اور شاخ آپ کے اہل بیت اور آپ کے صحابہ کرام علیہم الرضوان کی محبت ہے جس کا کوئی مسلمان انکار نہیں کر سکتا لیکن اس معاملے میں بھی ہر قسم کے غلو سے اجتناب کرنا چاہئے تاکہ یہ عظیم نعمت ہمارے لئے شرک کی مصیبت نہ بن جائے۔

جب انسان اپنی محبت کا رخ اللہ اور اس کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، اور آپ کی آل و اصحاب کی طرف موڑ دے تو پھر اسے دنیاوی محبتوں سے نجات مل جاتی ہے۔ اس کا یہ معنی نہیں کہ والدین اور بیوی بچوں سے محبت نہیں کرنی چاہئے۔ یہ محبتیں بھی انسان کی فطرت میں داخل ہیں۔ لیکن ان سب محبتوں کو خدا و رسول کی محبت کے تابع ہونا چاہئے۔

یہی حال نفرت کے جذبے کا ہے۔ جب نفرت کے جذبے کو غلط استعمال کیا جائے تو انسان تخریب کار اور دہشت گرد بن جاتا ہے اور اپنے جیسے انسانوں کے خون میں ہاتھ رنگنے لگتا ہے۔ اس کا صحیح استعمال یہ ہے کہ اسے برائیوں کے خلاف نفرت میں تبدیل کر دیا جائے۔ ایک بندہ مومن کے نزدیک کفر اور فسق و فجور کی طرف جانا آگ میں جل جانے سے زیادہ قابل نفرت ہونا چاہئے۔ اسی چیز کا ہمارے دین میں تقاضا کیا گیا ہے۔ اس جذبے کو بھی بعض اوقات غلط رنگ دے دیا جاتا ہے۔ برائی سے نفرت کو انسانوں تک پھیلا دیا جاتا ہے۔ نفرت برائی سے ہونی چاہئے برے انسان سے نہیں۔

ایک مسلمان کو دین اور اخلاقیات کا داعی ہونا چاہئے اور اسے برائیوں میں مبتلا شخص کو اپنا بھائی سمجھ کر اس کی اصلاح کی کوشش کرنا چاہئے نہ کہ اسے برا قرار دے کر دھتکار دے اور وہ اپنی برائیوں میں اور شدت اختیار کر جائے۔ ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ ہم سے بھی بہت سے گناہ سرزد ہوتے رہتے ہیں۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو کیا خوب نصیحت فرمائی کہ اس گناہ گار کو وہ سزا دے جس نے خود کبھی یہ گناہ نہ کیا ہو۔ اس اصول سے استثنا صرف ان لوگوں کا ہے جو بہت ہی زیادہ گھناؤنے قسم کے جرائم میں مبتلا ہوں اور اس سے توبہ بھی نہ کرنا چاہتے ہوں اور انہی میں مبتلا رہنا اپنی زندگی کا مقصد سمجھتے ہوں۔

اپنی زندگی میں ان دوستوں کا انتخاب کیجئے جو محبتیں پھیلانے والے اور نفرت سے دور بھاگنے والے ہوں۔ اگر آپ کے قریب ایسے منفی ذہنیت کے حامل لوگ موجود ہیں جو ہر وقت دوسروں کی نفرت کی آگ میں جلتے رہتے ہیں اور دوسروں تک بھی یہ آگ منتقل کرنا چاہتے ہیں تو ان سے مکمل طور پر اجتناب کیجئے ورنہ آپ کی شخصیت کو بھی یہ لوگ تباہ کرنے میں کسر نہیں چھوڑیں گے۔







اخلاص

اخلاص یا خلوص ہماری شخصیت کا وہ پہلو ہے جس کے ہونے کی وجہ سے کوئی دوسرا ہم پر اعتبار کر سکتا ہے۔ اخلاص کا معنی ہے نیت کا پاکیزہ اور خالص ہونا۔ نیت کا یہ خلوص اللہ تعالیٰ کے ساتھ میں بھی ہوسکتا ہے اور بندوں کے ساتھ بھی۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ نیت کے خلوص کا مطلب یہ ہے کہ انسان جو نیک عمل بھی کرے ، صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے کرے، اس میں اس کا کوئی دنیاوی مفاد پیش نظر نہ ہو۔ بندوں کے ساتھ خلوص یہ ہے انسان کی نیت میں کسی قسم کا کوئی کھوٹ نہ ہو اور وہ سب کا خیر خواہ ہو۔

اللہ تعالیٰ کے لئے جو اعمال کئے جاتے ہیں، ان میں نیت کے خالص ہونے کو اس قدر اہمیت حاصل ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر عمل کا دارومدار نیت ہی کو قرار دیا ہے اور یہ بھی ارشاد فرما دیا ہے کہ کوئی شخص جس مقصد کے لئے کوئی کام کرتا ہے، اسے وہی حاصل ہوتا ہے۔ اگر کوئی مال و دولت یا شہرت و ناموری کے حصول کے لئے جہاد جیسا اعلیٰ عمل بھی کرتا ہے تو اسے وہی ملے گا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا کوئی اجر نہ ہوگا۔ایک اور حدیث کے مطابق ایسے لوگ جو قرآن مجید کی تلاوت داد وصول کرنے کے لئے کرتے رہے، معاشرے میں اعلیٰ مقام بنانے کے لئے سخاوت کے دریا بہاتے رہے اور شہرت کے لئے جہاد جیسا عمل کرتے رہے، آخرت میں کوئی اجر نہ پاسکیں گے اور جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ جب ایک عمل اللہ تعالیٰ کے لئے کیا ہی نہیں گیا تو پھر وہ اس کا اجر کیوں دے گا۔یہی وجہ ہے کہ ریا کاری کو شرک اصغر قرار دیا گیا ہے۔

انسانوں کے ساتھ خلوص کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خیر خواہی سے تعبیر فرمایا ہے۔ مشہور حدیث ہے کہ الدین نصیحۃ یعنی دین خیر خواہی کا نام ہے۔ایک بندہ مومن کا یہ کام ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ خیر خوا ہی سے پیش آئے۔ ان کا خیال رکھے اور ان کے حقوق پورے پورے ادا کرے۔ جو ایسا نہیں کرتا، اسے اس دنیا میں بھی ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی اس خواری کے علاوہ کچھ نہ ملے گا۔ ہم سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ دوسرے اس کے ساتھ مخلص ہوں۔ اسی طرح دوسروں کی بھی یہی خواہش ہوتی ہے کہ ہم اس کے ساتھ مخلص ہوں۔



خوف و خشیت

خوف بھی انسان کا ایک فطری جذبہ ہے۔ ایسی تمام چیزیں جو اسے نقصان پہنچا سکتی ہیں، ان سے انسان خوفزدہ رہتا ہے۔ اسی طرح انسان کوئی بھی ناپسندیدہ صورتحال پیش آنے سے ڈرتا ہے۔ یہی جذبہ اگر نارمل حدود کے اندر رہے تو اسے تمام خطرات سے بچاؤ کی مناسب تدابیر اختیار کرکے ان سے محفوظ رہنے پر مجبور کرتا ہے ، لیکن اگر حد سے بڑھ جائے تو پھر ایک نفسیاتی بیماری کی شکل اختیار کر جاتا ہے۔

دوسرے جذبات کی طرح دین اسلام اس جذبے کا رخ بھی مناسب سمت میں موڑ دیتا ہے۔ دین ہم سے جن صفات کا تقاضا کرتا ہے ان میں سے ایک اللہ کا خوف ہے۔ یہ خوف اس قسم کا نہیں جیسا کہ بعض لوگ جن بھوتوں سے ڈرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ خوف دراصل ایک محبوب ہستی کے ناراض ہوجانے کا خوف ہے۔ دنیا کا کوئی شخص بھی اپنے محبوب کی ناراضگی سے ڈرتا ہے۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی محبت کو ہر محبت پر ترجیح دیتے ہیں، وہ اس کی ناراضگی سے ڈرتے ہیں اور ہر ایسے فعل سے اجتناب کرتے ہیں، جو اس کی ناراضگی کا باعث ہو۔ اللہ تعالیٰ کا خوف دوسری تمام چیزوں کے خوف سے آدمی کو نجات دے دیتا ہے۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ انسان ہر چیز سے بالکل ہی بے خوف ہو جاتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کا خوف وہ حوصلہ دیتا ہے جس سے انسان ہر خوف اور خطرے کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہوجاتا ہے۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے بعض کو غزوہ خندق کے موقع پر کفار کا لشکر جرار دیکھ کر شدید گھبراہٹ ہوئی لیکن اللہ تعالیٰ کے خوف اور محبت نے انہیں اس عظیم لشکر کے مقابلے پر لا کھڑا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی آسمانی مدد سے اہل ایمان کو اس مقابلے میں فتح نصیب فرمائی۔



حیرت و تجسس

انسان کی شخصیت کا ایک پہلو حیرت بھی ہے۔ جب وہ کوئی ایسی چیز دیکھتا ہے جس کی وہ توجیہ نہیں کر سکتا تو وہ حیرت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یہی حیرت تجسس کو جنم دیتی ہے۔ قدیم زمانے سے مذہبی طبقے نے انسان کے اس جذبے کا استحصال کیا ۔ جب وہ کوئی آسمانی آفت سے دوچار ہوتا تو اس کی توجیہ دیوتاؤں کی ناراضگی وغیرہ سے کی جاتی اور طرح طرح کے توہمات سے حیر ت کو ختم کیا جاتا۔ہمارے دین نے ان تمام توہمات کا خاتمہ کرکے کائنات کی زبردست عقلی توجیہ کو ممکن بنا دیا ہے۔ جیسے جیسے جدید سائنس کی بدولت انسان کا علم ترقی کرتا جارہا ہے وہ کائنات کی اسی توجیہ کو ماننے پر مجبور ہوتا جارہا ہے کہ اس کائنات کا کوئی خدا ہے۔

تجسس کے جذبے کو اگر مثبت طریقے سے استعمال کیا جائے تو یہ انسان کے علم میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ سائنس کی یہ ساری ترقی اسی جذبہ تجسس کی بدولت ہے۔ اس کے برعکس اگر اسے ان معلومات کے حصول کے لئے استعمال کیا جائے جن کا کوئی مقصد نہیں ہے تو یہ ایک آفت بن جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایک دوسرے کی ٹوہ میں رہنے او رذاتی حالات اور ذاتی خامیاں جاننے کا تجسس بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے تجسس سے منع فرمایا ہے اور ایک دوسرے کی ذات کو کریدنے سے روکاہے۔ یا ایھا الذین اٰمنوا اجتنبوا کثیرا من الظن ، ان بعض الظن اثم ۔ ولا تجسسوا و لا یغتب بعضکم بعضا۔ (الحجرات 49:12) ’’اے ایمان والو! بہت زیادہ گمان کرنے سے بچو۔ بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔ (ایک دوسرے کی ذاتی زندگی کے بارے میں) تجسس نہ کرو اور نہ ہی ہے ایک دوسرے کی غیبت کرو۔‘‘

ایک حدیث کے مطابق ایک شخص نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں جھانکا تو آپ نے اس پر شدید ناراضگی کا اظہار فرمایا ۔ یہ بھی انتہائی حیرت کی بات ہے کہ اہل مغرب جو آسمانی ہدایت سے دور ہیں، ان اخلاقیات کو اپنائے ہوئے ہیں اور ہم اس ہدایت کے علمبردار ہونے کے باوجود اخلاق کے اس معیار سے ابھی کوسوں دور ہیں۔اپنے ان جذبوں کو کنٹرول کرکے ہم اپنی شخصیت کو اعلیٰ اخلاق کا نمونہ بنا سکتے ہیں۔



ترجیحات (Priorities)

ترجیحات بھی انسان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔ ہر انسان اپنے حالات کے مطابق بعض چیزوں کو دوسری چیزوں پر ترجیح دیتا ہے۔ انتخاب کا یہ اصول پوری زندگی میں ہی کار فرما رہتا ہے۔ دنیاوی زندگی کے بارے میں دین کا تقاضا یہ ہے کہ ہر معاملے میں اخلاقی پہلو کو ترجیح دی جائے اور اگر کسی چیز میں اخلاقی اعتبار سے کوئی قباحت نہیں ہے تو اس میں انسان آزاد ہے کہ وہ جسے چاہے ترجیح دے۔

دنیا کے مقابلے میں آخرت (جو کہ اصل زندگی ہے) کو ترجیح دینا دین اور عقل دونوں کے لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اگر کوئی شخص دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتا ہے تو یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی ایک روپے کو حاصل کرنے کے لئے کروڑوں روپے کا نقصان کرلے۔ ہمیں ترجیح کے اس اصول کو اپنی شخصیت کا حصہ بنانا چاہئے کہ جو چیز ہمارے لئے دنیا اور آخرت میں زیادہ فائدہ مند ہے اسے اختیار کر لیں اور اگر ایسی صورتحال سامنے آجائے جس میں اگر ہم آخرت بنانے کی کوشش کریں تو دنیا میں حالات خراب ہوتے ہوں اور دنیا بنانے کی کوشش کریں تو آخرت تباہ ہوتی ہو تو پھر ہر حال میں آخرت ہی کو ترجیح دیں۔ اس کی مثال یہ ہے کہ اگر کسی کو مال حرام کمانے کا بہترین موقع میسر ہو۔ اس صورت میں اس کے سامنے دنیا کمانے کا تو بہترین موقع ہے لیکن اس سے آخرت تباہ ہوجائے گی۔ ایسے حالات میں عقل مندی کا تقاضا یہی ہے کہ آخرت کو دنیا پر ترجیح دی جائے کیونکہ دنیا کی زندگی چند سال کی ہے اور آخرت کی لامحدود۔



قوت برداشت (Temperament)

انسان کی قوت برداشت بھی اس کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ہے۔ اس دنیا میں بارہا ایساہوتا ہے کہ حالات ہمارے لئے خوشگوار نہیں ہوتے یا پھر دوسرے لوگ ہماری مرضی کے مطابق رویہ اختیار نہیں کرتے۔ ایسے موقعوں پر جو لوگ آپے سے باہر ہوجاتے ہیں، انہیں کمزور شخصیت کا مالک سمجھا جاتاہے۔ اس کے برعکس جو لوگ تحمل اور بردباری سے مسائل کا سامنا کرتے ہیں، وہ اپنے قریبی لوگوں کی نظر میں اہم مقام حاصل کر لیتے ہیں۔

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت برداشت انتہائی اعلیٰ درجے کی تھی۔ کفار کے ظلم و ستم کے جواب میں آپ ان کے لئے دعا فرماتے اور کبھی بھی اپنے دشمنوں سے ذاتی انتقام نہ لیتے۔یوں تو سبھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہ کر متحمل اور بردبار ہو گئے تھے لیکن سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا تحمل ضرب المثل کے طور پر مشہور ہے۔ یہ آپ کی قوت برداشت ہی تھی جس کی بدولت آپ نے بیس سال بطور گورنر اور بیس سال بطور خلیفہ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور دنیا کی سب سے بڑی مملکت کے فرمانروا کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دیے۔

عام سے لوگ بھی آپ کے سامنے آپ پر شدید تنقید کرتے لیکن آپ ہمیشہ خندہ پیشانی سے اسے برداشت کرتے۔ آپ کی یہی خصوصیت تھی جس کی بنا پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دوسرے گورنروں کے برعکس آپ کو کبھی معزول یا تبدیل نہیں کیا۔

قوت برداشت کو بڑھاناخاصا مشکل کام ہے۔ اس کا حل یہی ہے کہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو زیادہ اہمیت نہ دی جائے اور ان پر زیادہ نہ سوچا جائے۔ اگر ان معاملات میں آپ کی مرضی کے خلاف کچھ ہوجائے تو اسے نظر انداز کر دیجئے۔ جو لوگ چھوٹے چھوٹے سے مسائل کو برداشت نہیں کرتے، وہ اپنے ساتھیوں کی نظر میں اپنا مقام گرا دیتے ہیں ۔قوت برداشت کو بڑھانے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی سیرت کا مطالعہ کیجئے اور ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کیجئے جو اعلیٰ درجے کے متحمل اور بردبار ہوں۔ اگر آپ کے حلقہ احباب میں ایسے افراد موجود ہیں جو بات بات پر بھڑک اٹھتے ہیں تو ان سے اجتناب کیجئے۔



صبر و شکر

انسان خواہ امیر ہو یا غریب، شرقی ہو یا غربی، نیک ہو یا بد، مسلم ہو یا غیر مسلم، اس پر ایسے وقت بھی آتے ہیں جب اسے مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، دنیا کے حالات اس کے لئے ناگوار ہوتے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان کو طرح طرح کی نعمتیں اور خوشیاں ملتی ہیں اور اسے راحت و آرام نصیب ہوتا ہے۔ دین اسلام ہمیں پہلی قسم کے حالا ت میں صبر اور دوسری قسم کے حالات میں شکر کا رویہ اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے۔

صبر دراصل انسان کی قوت برداشت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جو شخص جتنا متحمل اور بردبار ہوگا ، وہ اتنا ہی زیادہ صابر ہوگا۔ شکر انسان کی خود سپردگی کا نام ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی جانب سے اسے خوشگوار حالات پیش آتے ہیں تو ناشکرے انسان اسے اپنی کاوشوں او رصلاحیتوں کا نتیجہ سمجھتے ہیں اور اپنی کامیابیوں پر ایسا جشن مناتے ہیں جس میں دل کھول کر وہ اپنے رب کی نافرمانی کرتے ہیں۔ اس کے بالکل برعکس ایک بندہ مومن یہ سمجھتا ہے کہ یہ صرف اور صرف اس کے رب کی عطا ہے اور وہ اس حالت میں اس کی کوئی نافرمانی نہیں کرتے اور خود کو اس کے حضور جھکا دیتے ہیں۔

بعض بزرگوں کے نزدیک شکرکی منزل صبر سے زیادہ کٹھن ہے۔ مصائب میں تو انسان کے سامنے صبر کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا لیکن خوشیاں ملنے پر اس کے سامنے دونوں راستے کھلے ہوتے ہیں کہ چاہے تو وہ صبر کرے اور چاہے نہ کرے۔ مامون رشید کے دور میں امام احمد بن حنبل علیہ الرحمۃ پر مصیبتوں کے پہاڑ توڑے گئے اور آپ کو شدید جسمانی اور نفسیاتی ٹارچر کا نشانہ بنایا گیا۔ آپ نے پوری طرح اس پر صبر کیا۔ مامون کے بعد جب متوکل علی اللہ کا دور آیا تو اس نے آپ پر انعام و اکرام کی بارش کردی۔ اس موقع پر آپ نے فرمایا کہ میرے لئے یہ آزمائش پہلی سے زیادہ سخت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کا تعلق انسان کی شخصیت سے ہوتا ہے۔ بعض لوگوں کے لئے صبر کی آزمائش آسان ہوتی ہے اور بعض کے لئے شکر کی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبر و شکر دونوں کے مواقع پر نماز پڑھ کر صبر و شکر کیا کرتے۔ شدید مصائب میں بھی آپ کا تعلق اللہ تعالیٰ سے مضبوط ہوجاتا اور کامیابیوں پر بھی آپ کی گردن نیاز اپنے پروردگار کے سامنے جھکی ہوتی۔ طائف سے واپسی کے موقع پر ، جب آپ پر پتھر برسا کر آپ کو شدید جسمانی اور ذہنی اذیت پہنچائی گئی تب بھی آپ نے صرف اللہ تعالیٰ ہی سے دعا کی اور جب فتح مکہ کے موقع پر آپ کا لشکر جرار فاتحانہ شان سے مکہ میں داخل ہورہا تھا تو دنیادار فاتحین کے برعکس، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن شکر کے جذبات کے ساتھ اتنی جھکی ہوئی تھی کہ سر مبارک اونٹنی کے کوہان سے ٹکرا رہا تھا۔

شکر کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو نعمت آپ کو عطا کی ہے، اس کی خوشیوں میں اپنے ساتھ اپنے ان بھائیوں کو بھی شریک کیجئے جو اس سے محروم ہیں مثلاً اچھی جاب ملنے کی خوشی میں صدقہ کیجئے، اگر اپنی شادی پر خرچ کر رہے ہیں تو اس رقم کا کچھ حصہ اپنی کسی اس غریب بہن کو بھی دیجئے جو محض مال کی کمی کی وجہ سے اپنے گھر بار سے محروم ہے۔



ٹیم اسپرٹ (Team Spirit)

کسی عملی انسان کا قول ہے، "Only the teams can win." ۔ یہ حقیقت ہے کہ اکیلا انسان کوئی بڑا کام نہیں کر سکتا کیونکہ کسی بڑے کام کو سرانجام دینے کا حوصلہ تو شاید کسی فرد میں ہو لیکن اس کے لئے درکار تمام صلاحیتیں بہت کم ہی کسی ایک شخص میں اکٹھی ہوتی ہیں۔ مختلف صلاحیتیں لیکن مشترک سوچ اور مزاج رکھنے والے افراد مل کر ٹیم کی صورت میں بڑے بڑے کارنامے انجام دے سکتے ہیں۔ ٹیم اسپرٹ یہ ہے کہ مل کر کسی مشترکہ مقصد کے لئے جدوجہد کی جائے۔

ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ کسی ٹیم کے تمام ارکان بہت زیادہ باصلاحیت ہوں۔ ایسے مواقع پر باصلاحیت افراد کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے کمزور ساتھیوں کو بھی اپنے ساتھ لے کر چلیں تاکہ وہ اپنے حوصلے پست ہونے کی وجہ سے پیچھے نہ رہ جائیں۔ اگر اس مقصد کے لئے باصلاحیت افراد کو اپنی رفتار کچھ سست بھی کرنی پڑے تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔ ٹیم کی کامیابیوں میں سب کو شریک کیا جائے اور کوئی شخص دوسروں کی ٹانگ کھینچ کر خود آگے آنے کی کوشش نہ کرے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کی زندگیاں ہمارے لئے ٹیم اسپرٹ کا بہترین نمونہ ہیں۔ معاش اور روزگار کے مسائل ہوں یا کفار کا ظلم و ستم، جنگوں کا سامنا ہو یا مہاجرین کی آباد کاری کا مسئلہ، ہر موڑ پر ہمیں ٹیم اسپرٹ کی ایسی اعلیٰ مثال ملتی ہے جو شاید کسی اور تحریک میں نہ مل سکے۔ یہ اعلیٰ ترین کردار کے حامل افراد ہر بوجھ کو مل کر اٹھاتے اور اپنے کسی ساتھی کو پیچھے نہ چھوڑتے۔ ہر خوشی کو ایک دوسرے سے شیئر کرتے۔ حتیٰ کہ کھانے پینے کی چیزوں کے معاملے میں بھی دوسروں کو خود پر ترجیح دیتے۔ ان سب کی بہترین مثال اس وقت ملتی ہے جب مواخات مدینہ کے تحت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک مہاجر کو ایک ایک انصاری کا بھائی بنا دیا۔ اس موقع پر انصار نے جس ایثار کا مظاہرہ کیا، وہ اسلامی تاریخ کا روشن ترین باب ہے۔

خود میں ٹیم اسپرٹ پیدا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اپنے دل سے قساوت دور کرنے کی کوشش کیجئے اور دوسروں کے لئے اپنے دل میں خیر خواہی کے جذبات پیدا کیجئے۔ اپنے دوسرے ٹیم ممبرز کے لئے خیر خواہی اور احسان کے جذبات پیدا کیجئے، انشاء اللہ اس کے نتیجے میں دوسرے بھی آپ کے لئے یہی جذبات رکھیں گے۔

اجتماعی کاموں میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہےکہ بعض اوقات ٹیم، انسان کی شخصی آزادی کو سلب کر لیتی ہے جس کے نتیجے میں تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار پر قدغنیں عائد ہو جاتی ہیں۔ اچھی ٹیموں میں کبھی شخصی آزادی سلب نہیں کی جاتی اور اختلاف رائے کا احترام کیا جاتا ہے۔ اگر خدانخواستہ آپ کا واسطہ کسی ایسی ٹیم سے پڑ گیا ہے تو اس کی اصلاح کی کوشش کیجیے اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو اس ٹیم کو چھوڑ کر کسی ایسی ٹیم سے وابستہ ہو جائیے جہاں حالات سازگار ہوں۔



خود انحصاری یا دوسروں پر انحصار

(Self Sufficiency or Dependability)

ہر شخص کو یہ کوشش کرنی چاہئے کہ وہ کم از کم اپنا بوجھ خود اٹھائے اور دوسروں کا بوجھ بھی کسی حد تک اٹھانے کی کوشش کرے۔ جو شخص اس صلاحیت کے باوجود دوسروں پر انحصار کا رویہ اختیار کرتا ہے، اسے ہر معاشرے میں ذلت کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے۔ خود انحصاری کے لئے اگرچہ محنت کرنا پڑتی ہے اور تکالیف برداشت کرنا پڑتی ہیں لیکن اسی کی بدولت معاشرے میں باعزت مقام حاصل کیا جاسکتا ہے۔

یہ تو بدیہی امر ہے کہ ہر شخص اپنی تمام ضروریات کو خود ہی پورا نہیں کرسکتا۔ اسے بہت سی ضروریات کے لئے دوسروں کی مدد کی ضرورت پڑتی ہے۔ ایسے مواقع پر بہترین طرز عمل یہ ہے کہ اس شخص کی کچھ ضروریات پوری کرنے کی آپ بھی کوشش کریں جو آپ کی ضرورت پوری کرتا ہے۔ مثلاً بیوی اگر اپنے شوہر کی دل و جان سے خدمت کررہی ہے تو شوہر کا بھی فرض ہے کہ وہ اس کے لئے کما کر لائے اور اس کی ضرورتوں کا خیال رکھے۔ اسی طرح والدین اپنی اولاد کے لئے جو کچھ کرتے ہیں، اولاد کا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ وہ والدین کی خدمت کریں۔ اگر ایک دوست نے دوسرے کی مشکل وقت میں مدد کی ہے تو دوسرے کو بھی چاہئے کہ وہ ہر مشکل میں اپنے دوست کو تنہا نہ چھوڑے۔

خود انحصاری کے لئے یہ ضروری ہے کہ اپنی شخصیت کو نفسیاتی، عمرانی اور بالخصوص معاشی اعتبار سے زیادہ سے زیادہ مضبوط بنایا جائے اور خود میں اعلیٰ صفات پیدا کی جائیں تاکہ دوسروں پر انحصار کو کم سے کم کیا جائے۔



خود غرضی

خود غرضی کو ہمارے ہاں منفی معنوں میں لیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اپنی ذات کو اہمیت اور دوسروں پر ترجیح دینا بہرحال ایک فطری جذبہ ہے۔ جب انسان ڈوب رہا ہو تو وہ سب سے پہلے خود کو بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی طرح مالی تنگی کے دور میں ہر ایک اپنی ضروریات کو پورا کرنے کی پہلے فکر کرتا ہے۔ اگر یہ جذبہ انہی فطری حدود کے اندر رہے تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔ لیکن اگر یہ حد سے بڑھ جائے تو کسی بھی شخص کا ایک منفی امیج قائم کرتا ہے۔ جو فرد اپنی معمولی سی خواہش کے لئے دوسروں کی بنیادی ضروریات کو قربان کرے، سب اسے خود غرض کہتے ہیں۔ مثلاً اگر کسی غریب کے بچے بھوکے مر رہے ہوں اور دوسرا شخص انہیں نظر انداز کرکے اعلیٰ ہوٹلوں میں بہترین قسم کے کھانے کھا رہا ہو بلکہ انہیں ضائع کر رہا ہو تو اسے خود غرض کہا جائے گا۔

اگر دیکھا جائے تو انسانی اخلاقیات کی روشنی میں یہ نہایت گھٹیا درجے کی حرکت ہے۔ ہمارے دین نے ہمیں اپنی ضروریات و خواہشات پوری کرنے سے نہیں روکا بلکہ اپنے معاشرے کے ان افراد کی ضروریات پوری کرنے کی تلقین کی ہے جو کسی وجہ سے معاشی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہوں۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ میں ہزاروں درہم میں پانی کو کنواں خرید کر سب اہل مدینہ کے لئے وقف کیا تھا ، وہ اسی بے غرضی کی اعلیٰ مثال ہے۔ اس قسم کی بہت سے مثالیں ہمیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ علیہم الرضوان کی سیرتوں میں ملیں گی۔ جنگ یرموک کا وہ واقعہ تو آپ کو یاد ہوگا جس میں دم توڑتے ہوئے ایک زخمی نے اپنی پیاس پر دوسرے کو ترجیح دی اور دوسرے نے تیسرے کو اپنی پیاس پر ترجیح دی۔

اگر ہم ایک اعلی اخلاقی زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو ہمیں دوسروں کی مدد کے جذبے کو اپنی شخصیت کا لازمی جزو بنانا ہوگا۔



قائدانہ صلاحیتیں (Leadership)

دور قدیم سے ہی یہ خیال عام تھا کہ قائدانہ صلاحیتیں موروثی ہوتی ہیں اور یہ کسی خاص نسل کے ساتھ ہی مخصوص ہوتی ہیں۔ علم نفسیات کی جدید ترین تحقیقات نے اس خیال کو غلط ثابت کردیا ہے۔ ہر شخص میں فطری طور پر قائدانہ صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں ۔ ہاں ایساضرور ہوتا ہے کہ بعض افراد میں یہ زیادہ اور بعض میں یہ کم ہوتی ہیں۔ مناسب تربیت کے ذریعے ان صلاحیتوں کو نشوونما دی جاسکتی ہے۔یہ غلط فہمی بھی دور ہونی چاہئے کہ لیڈر شپ صرف سیاسی یا مذہبی رہنماؤں کے ساتھ ہی خاص نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں جہاں اجتماعی کام کرنا ہو، لیڈر شپ کی اہمیت مسلّم ہے۔

قائدانہ صلاحیتوں میں دوسروں کو متاثر کرنے کی صلاحیت، دوسروں کی رہنمائی کرنے کی صلاحیت ، دوسروں کو متحرک (Motivate) کرنے کی صلاحیت ، فیصلہ کرنے کی صلاحیت، اپنی بات کے موثر انداز میں ابلاغ کی صلاحیت، ذہانت، جوش و ولولہ، دیانت داری، دلیری ، خود اعتمادی اور مسائل کے تخلیقی انداز میں حل کرنے کی صلاحیت زیادہ اہمیت کی حامل ہیں۔ ان میں سے کئی صلاحیتوں پر اس تحریر کے دوسرے حصوں میں بحث کی گئی ہے۔ جن افراد میں دوسروں کی نسبت یہ خصوصیات زیادہ ترقی یافتہ ہوتی ہیں، وہ بالعموم اچھے لیڈر ثابت ہوتے ہیں۔

اپنی شخصیت میں ان صلاحیتوں کو ترقی دینے کا کوئی ایک طریق کار بیان نہیں کیا جاسکتا۔ ہر صلاحیت کو بہتر بنانے کے بہت سے طریقے ہیں۔ یہاں پر ہم بعض صلاحیتوں کے بارے میں مختصراً چند نکات پیش کر رہے ہیں، باقی صلاحیتوں کے بارے میں دوسرے حصوں میں بحث کی گئی ہے:



• دوسروں کے ساتھ ہمدردی، خلوص اور محبت کا رویہ رکھیے۔ بے جا تنقید، نفرت، دوسروں کی بے عزتی کرنا اچھے لیڈر کے لئے زہر قاتل ہے۔

• دوسروں کو متاثر کرنے کے لئے اس تحریر میں دیے گئے شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو بہتر بنائیے۔ آپ دوسروں کو زیادہ بہتر طور پر متاثر کر سکیں گے۔

• دوسروں کی رہنمائی کے لئے اپنے علم و عقل میں اضافہ کیجئے۔ بغیر علم کے دوسروں کی رہنمائی کرنے والوں کو سیدنا عیسیٰ علیہ الصلوۃ وا لسلام نے اندھے راہ دکھانے قرار دیا ہے۔

• دوسروں میں تحریک (Motivation) پیدا کرنے کے لئے اس سادہ اصول کو اپنا لیجئے کہ ہر شخص چند محرکات رکھتا ہے۔ اگر آپ اسے اس کی خواہشات پوری کرنے کی امید دلائیں تو وہ متحرک ہو سکتا ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ہر انسان کو زندہ رہنے کے لئے روٹی ، کپڑے اور مکان کی ضرورت ہے۔ یہی خواہش اسے کام کرنے پر مجبو رکرتی ہے۔ ہر انسان میں بہت سے محرکات پائے جاتے ہیں جن میں بنیادی ضروریات کے علاوہ تحفظ ، تجسس، سرگرمی، حصول ، وابستگی، رتبے، طاقت، ہمدردی، ایثار وغیرہ شامل ہیں۔ ایک اچھے لیڈر کا کام یہ ہے کہ وہ دیکھے کہ اس کے ٹیم ممبرز میں کس جذبے کے تحت تحریک پیدا کی جاسکتی ہے اور اپنے وسائل کے مطابق اس کو بروئے کار لاکر وہ اس میں تحریک پیدا کرسکتا ہے۔

• درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت تجربے کے ساتھ پیدا ہوتی ہے۔ شروع شروع میں انسان کو اپنے علم کے مطابق کوئی بھی اچھا فیصلہ کر لینا چاہئے۔ تجربے کے ساتھ ساتھ وہ سیکھ جائے گا کہ کن حالات میں کیا فیصلہ درست ہے۔ اس مقصد کے لئے تجربہ کار لوگوں کے مشورے کی بھی بہت زیادہ اہمیت ہے۔



اس بات کا خیال رکھنا بھی نہایت ضروری ہے کہ دینی معاملات میں اپنی لیڈر شپ کی خواہش کوئی اچھی بات نہیں۔ دینی لیڈر شپ اگرچہ بڑے اعلیٰ درجے کی نعمت ہے لیکن یہ بہت بڑی آزمائش بھی ہے۔ انسان کو چاہئے کہ وہ دین میں لیڈر شپ کی خواہش نہ کرے بلکہ عاجزی و انکساری کے ساتھ دین کی خدمت کرتا رہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اسے اس آزمائش میں ڈال دے تو پوری تن دہی کے ساتھ اس میں پورا اترنے کی کوشش کرے۔ہمیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سیرتوں سے یہی رہنمائی ملتی ہے۔



عصبیت

عصبیت کا مطلب ہے خود کو انسانوں کے کسی گروہ کے ساتھ وابستہ سمجھنا۔ اگر دیکھا جائے تو یہ ایک فطری جذبہ ہے اور اس کی بدولت ہی معاشرہ وجود میں آتا ہے۔ انسان ہمیشہ خود کو کسی خاندان، برادری، قبیلے، شہر، علاقے، ملک یا مذہب سے وابستہ سمجھتا ہے اور اپنے گروہ کے لئے خدمات انجام دینے کی کوشش کرتا ہے۔ ابن خلدون کے مطابق قوموں کی تشکیل کی بنیاد ہی عصبیت ہوتی ہے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے انسان کے اس جذبے کو تسلیم کیا ہے اور اس کے بارے میں ہدایات بھی دی ہیں۔ یا ایھا الناس انا خلقنٰکم من ذکر و انثیٰ و جعلنٰکم شعوبا و قبائل لتعارفوا۔ ان اکرمکم عند اللّٰہ اتقٰکم۔ ان اللّٰہ علیم خبیر۔ (الحجرات 49:13) ’’ اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں خاندان اور قبائل بنا دیا تاکہ تم ایک دوسرے سے تعارف حاصل کر سکو۔ بے شک اللہ کے نزدیک عزت والا وہی ہے جو زیادہ پرہیز گار ہے۔ بے شک اللہ ہر چیز کو جاننے والا اور باخبر ہے۔‘‘

عصبیت کا جذبہ اگر اپنی حدود ہی میں رہے تو اس کی برکت سے انسان اجتماعی زندگی گزارنے کے قابل ہوتا ہے لیکن اگر وہ اسے بڑھا کر تعصب کی شکل دے لے اور دوسرے معاشرتی گروہوں کو حقیر سمجھنے لگے تو یہی جذبہ اس کے لئے مصیبت بن جاتا ہے۔ اگر ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو اس میں طرح طرح کے تعصبات پائے جاتے ہیں۔ لوگ عموماً اپنے نسب پر فخر کرتے ہیں اور دوسری ذاتوں کو حقیر سمجھتے ہیں۔ ظاہر ہے یہ تصور برصغیر کے مسلمانوں میں نسل پرست اقوام سے آیا ہے۔ اسی تصور کی بنا پر بعض لوگ دوسری ذاتوں میں شادیاں نہیں کرتے۔ یہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تین بیٹیوں کی شادیاں غیر سادات میں کیں۔ اسی طرح سیدنا علی، سیدنا حسن او رسیدنا حسین رضی اللہ عنہم نے اپنی بہت سی بیٹیوں اور بیٹوں کی شادیاں صرف اور صرف علم اور تقویٰ کی بنیاد پر غیر سید خاندانوں میں کیں۔

اسلام میں کسی نسب کو دوسرے پر فضیلت حاصل نہیں۔ بعض لوگ کسی بزرگ شخصیت کی اولاد ہونے کی وجہ سے خود کو برتر اور دوسرے کو کمتر سمجھتے ہیں حالانکہ یہ بات تو مسلمہ ہے کہ ہر انسان خواہ وہ کسی بھی حسب نسب سے تعلق رکھتا ہو، بہرحال اللہ تعالیٰ کے دو جلیل القدر نبیوں آدم اور نوح علیہما الصلوۃ والسلام کی اولاد ضرور ہے۔ قرآن مجید کی یہ آیت اس معاملے میں بڑی واضح ہے خاندان اور قبائل بنانے کا مقصد صرف تعارف تھا، اس کی بنیاد پر کسی کو دوسرے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں کیونکہ انسان کی یہ صفات غیر اکتسابی ہیں۔

اگر کسی شخص کے آباؤ اجداد بہت نیک تھے تو اس میں اس شخص کا کیا کمال ہے یا پھر اگر اس کے آباؤ اجداد میں کوئی برا شخص گزرا تھا تو اس میں اس کا کیا قصور ہے؟ فضیلت کا معیار تو اس کے اپنے کارناموں پر ہے۔ اگر وہ اپنی زندگی اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے ہوئے نہیں گزارتا تو اسے دوسروں پر برتری کا کوئی حق حاصل نہیں۔ اگر کوئی شخص نیک اور پرہیزگار ہے تو اسے تب بھی دوسروں پر اپنی برتری جتلانے کا کوئی حق نہیں، اس کو جو عزت و شرف دیا جائے گا، اس کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے۔

نسب کے علاوہ ہمارے یہاں پیشوں کا بھی بڑا تعصب پایا جاتا ہے۔ عام طور پر لوگ ہاتھ سے کام کرنے والے بہت سے پیشوں کو حقیر سمجھتے ہیں۔ اس کے برعکس اہل عرب میں کسی پیشے کو حقیر نہیں جانا جاتا، یہی وجہ ہے کہ وہاں بڑے بڑے امیر لوگ اپنے آبائی پیشوں مثلاً خیاط (درزی) وغیرہ کو اپنے نام کے ساتھ فخر سے لگاتے ہیں۔دین اسلام ہر قسم کے جائز پیشے کو عزت کا مقام دیتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محنت کرکے کمانے والے کو اللہ کا دوست قرار دیا ہے۔

ہمارے قبائلی علاقوں میں بالخصوص قبائلی تعصب بھی عام ہے۔ ایک شخص کے قتل کے جر م میں اس کے قبیلے کے کسی اور شخص کو قتل کرد یا جاتا ہے۔ باپ دادا کی دشمنیوں کو ان کے پوتے اور نواسے ساری عمر بھگتتے رہتے ہیں اور پھر اس دشمنی کو اگلی نسل تک منتقل کر دیتے ہیں۔ وطن عزیز کو جس عصبیت سے شدید خطرہ لاحق ہے، وہ صوبائی اور لسانی عصبیت ہے۔ اسی کی بنیاد پر پہلے ہمارا ملک دو لخت ہوا اور اب بھی مختلف صوبوں میں محض زبان کی بنیاد پر علیحدگی کی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔

ملکی و وطنی عصبیت کی بنا پر دنیا میں دو بڑی جنگیں ہو چکی ہیں جن میں کروڑوں لوگ موت یا معذوری کا شکار ہوئے۔ ہمارے ملک میں ملکی عصبیت تو خیر ابھی تک اپنے جائز مقام تک نہیں پہنچی اس وجہ سے اس کے ناجائز حدود میں داخل ہونے کا مستقبل قریب میں کوئی امکان نہیں۔

ان سب تعصبات سے بڑھ کر مذہبی عصبیت ہے۔ یہی وہ تعصب تھا جس کی بنا پر بعض یہودی، غیر یہودیوں سے سودی لین دین اور ان پر ظلم و ستم کو بھی جائز سمجھتے تھے۔ ہمارے یہاں بھی بعض لوگ غیر مسلموں کو حقیر سمجھتےہیں اور مسلمان کے گھر پیدا ہونے والا، خواہ اپنے عقائد و اعمال میں اس کا اسلام سے دور کا بھی تعلق نہ ہو، خود کو ان سے برتر سمجھ کر نسلی غرور میں مبتلا ہے۔

یہ تعصب ہمارے ہاں مسلمانوں کے اپنے فرقوں کے ہاں اور زیادہ شدت کے ساتھ موجود ہے۔ ہر فرقہ خود کو ہدایت پر اور دوسرے کو گمراہی پر سمجھتا ہے۔ کوئی دوسروں کے نقطہ نظر کو سننے اور سمجھنے پر تیار ہی نہیں۔ دینی مدارس اور مساجد تک کا نظام بھی فرقہ وارانہ بنیادوں پر قائم ہے جہاں اسلام کے نہیں بلکہ اپنے فرقے کے سپاہی پیدا کئے جاتے ہیں۔ اب تو حالت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ایک دوسرے کی مساجد میں نہتے نمازیوں پر فائرنگ کو بھی برا نہیں سمجھا جاتا۔

دین اسلام ہر قسم کے تعصبات کا خاتمہ کرکے عصبیت کو صرف اور صرف حق او رناحق تک محدود کرتا ہے۔ اسلام نسل انسانیت کو صرف دو گروہوں میں تقسیم کرتا ہے یعنی اللہ کو ماننے والا گروہ یعنی حزب اللہ اور اس کے مقابلے میں سرکشی اختیار کرنے والا گروہ یعنی حزب الشیطان۔ جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کے گروہ میں آجاتا ہے، اس پر یہ لازم ہوتا ہے کہ وہ شیطان کے گروہ میں شامل ہونے والوں کو دعوت و تبلیغ کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے گروہ میں لانے کی کوشش کرے۔

اگر ہم ایک اچھے انسان اور اچھے مسلمان بننا چاہتے ہیں توہمیں اپنی شخصیت میں عصبیت کی ان تمام انتہاؤں کا خاتمہ کرکے ہمیں اسے اپنی جائز حدود تک محدود کرنا پڑے گا۔



قانون کی پاسداری

دین اسلام کا مزاج یہ ہے کہ وہ لاقانونیت اور انارکی کو سخت ناپسند کرتا ہے اور اپنے ماننے والوں کو ایک اجتماعی نظام کے تحت زندگی بسر کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ دین ہمیں ایسے تمام احکامات اور قوانین میں اپنی حکومت کی اطاعت کی دعوت دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکامات کے خلاف نہ ہوں۔ اس مسئلے پر امین احسن اصلاحی صاحب نے اپنی کتابوں ’’اسلامی ریاست‘‘ او ر’’تزکیہ نفس‘‘ میں بہت تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ یہاں ہم ان کے بیان کردہ نکات کا ایک خلاصہ پیش کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ اس مسئلے میں اصلاحی صاحب کا موقف امت مسلمہ کے اکثر علماء کے نقطہ نظر کے مطابق ہے۔

اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے یا نہ کرنے کے اعتبار سے حکومتیں چار قسم کی ہو سکتی ہیں: پہلی قسم وہ حکومت ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے تمام احکامات کی پابندی کی جاتی ہواور دین اسلام کو بطور قانون قائم کر دیا گیا ہو۔ اس حکومت کے بارے میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی واضح ہدایات دی ہیں کہ اس کی ہر حال میں اطاعت کی جائے اور اس کی نافرمانی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے۔ ایسی حکومت کی اطاعت نہ کرنے والاجاہلیت کی موت مرتا ہے۔ بشری تقاضوں کے باعث اس قسم کی حکومت میں چند خامیاں بھی پیدا ہوسکتی ہیں، ان کے باوجود ان حکومتوں کی نافرمانی جائز نہیں بلکہ ان خامیوں کے خلاف آواز اٹھانے کا حکم ہے۔

دوسری قسم کی حکومت وہ ہے جس میں بظاہر تو اسلام کا نام لیا جاتا ہو اور بعض معاملات میں اس کی پیروی بھی کی جاتی ہو، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ظلم اور کرپشن بھی پائی جاتی ہو۔ موجودہ دور کے زیادہ تر مسلم ممالک میں ایسی ہی حکومتیں قائم ہیں۔ ایسی حکومتوں کے بارے میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح ہدایت فرمائی ہے کہ ان کی اس وقت تک اطاعت کی جائے جب تک یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف حکم نہ دیں۔ ظلم اور کرپشن کے خلاف آواز بلند کی جائے اور معاشرے اور حکومت کی اصلاح کی کوشش جاری رکھی جائے۔ اس قسم کی حکومتوں کے خلاف مسلح بغاوت جائز نہیں۔ آئین او رقانون کے دائرے میں رہتے ہوئے برائی کے خلاف جدوجہد بہر حال مسلمانوں پر اجتماعی طور پر لازم ہے۔

تیسری قسم کی حکومت غیر مسلموں کی حکومت ہے جہاں مسلمانوں کو اپنے دین اور پرسنل لاء کے بارے میں مکمل آزادی ہو۔ اگر ایک مسلمان کے پاس یہ آپشن موجود ہے کہ وہ وہاں سے ہجرت کرکے کسی ایسے ملک میں زندگی بسر کر سکتا ہے جہاں اسے اسلامی ماحول میسر ہو تب تو ٹھیک ہے ورنہ وہ اسی معاشرے میں رہتے ہوئے اپنے دین پر عمل کرے اور دنیاوی معاملات میں حکومت کی اطاعت بھی کرے۔ ایسی حکومت کے خلاف بھی مسلح بغاوت درست نہیں۔ یہ ایسا ہی ہے کہ کسی کے والدین اگر غیر مسلم ہوں تو اس پر لازم ہے کہ وہ ان کے ساتھ ساتھ عدل و احسان کا سلوک جاری رکھے، ہاں دین کے معاملے میں ان کی مداخلت گوارا نہ کرے۔موجودہ دور میں مغربی ممالک کی حکومتیں اس کی مثال ہیں۔

چوتھی قسم کی حکومت وہ ہے جس میں اہل اسلام کو اپنے دین کے بارے میں آزادی حاصل نہ ہو بلکہ انہیں کفر اختیار کرنے پر مجبور کیا جارہا ہو خواہ اس کے حکمران غیر مسلم ہوں یا نام نہاد مسلمان ہوں۔ ماضی قریب کا سوویت یونین ایسے طرز حکومت کی مثالیں ہیں جہاں دین پر عمل کرنے والوں کو مجبور کیا گیا کہ وہ اپنے دین کو ترک کردیں۔ ایسی صورت میں مسلمانوں کے سامنے تین راستے ہیں: ایک ہجرت، دوسرے مسلح جدوجہد اور تیسرے صبر۔ موجودہ دور میں ویزے کی پابندیوں کی وجہ سے کسی کمیونٹی کے لئے ہجرت کرنا ممکن نہیں رہا۔جہاں تک جہاد کا تعلق ہے، اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ کوئی آزاد مسلم حکومت اس پر تیار ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ حالات بہت اہمیت رکھتے ہیں۔

اگر حالات ایسے ہیں کہ حکومتی سطح پر مسلح جدوجہد کے ذریعے ظلم و جبر کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے اور اس جدوجہد کی کامیابی کے معقول حد تک امکانات موجود ہیں تو یہ کوشش کی جاسکتی ہے لیکن اگر مسلح جدوجہد کے نتیجے میں محض انارکی ہی پھیلنے کا غالب امکان ہو اور اصلاح احوال کی کوئی صورت نظر نہ آتی ہو تو اپنے ایمان کو بچانے کی ممکن حد تک جدوجہد کی جائے کیونکہ اسلام کی نظر میں لاقانونیت اور انارکی ظلم و جبر سے بھی بڑا جرم ہے۔

لاقانونیت اور انارکی کے نتیجے میں ایک محدود پیمانے پر ہونے والا ظلم و جبر وسیع پیمانے پر پھیل جاتا ہے اور پھر ہر کوئی اپنی اپنی طاقت کے مطابق اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے لگ جاتا ہے۔ عام لوگوں کی دولت پر بدمعاش قبضہ کر لیتے ہیں، خواتین کی عزتیں محفوظ نہیں رہتیں اور جرائم پیشہ گروہ منظم ہو جاتے ہیں۔ موجودہ دور میں افغانستان اور صومالیہ اس کی بدترین مثالیں ہیں جہاں کسی کی مال، جان اور عزت محفوظ نہیں۔

صبر کرکے اور معاشرے سے الگ تھلگ ہوکر اپنے ایمان کو بچانے کی ایک خوبصورت مثال اصحاب کہف کی ہے جو اپنے دین و ایمان کو بچانے کے لئے شہر سے باہر غار میں چلے گئے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس کوشش کی بہت تعریف کی ہے۔

اگر ہم پاکستان کے حالات پر غور کریں تو ہمارے ملک میں دوسری قسم کی حکومت قائم ہے۔ یہاں ہمیں انفرادی طور پر تو دین پر عمل کرنے کی آزادی حاصل ہے، لیکن اجتماعی طور پر نظام حکومت اور معاشرے میں بہت سی خرابیاں موجود ہیں ۔ ان حالات میں اگرچہ ہمارے لئے یہ درست نہیں کہ ہم حکومت سے محاذ آرائی کی پالیسی اختیار کریں لیکن معاشرے اور حکومت کی خرابیوں پر احسن انداز میں تنقید کرکے ان کی اصلاح کی جدوجہد کرنا بہرحال بحیثیت ایک قوم کے ہم پر لازم ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے کہ ہمارے ملک میں اس کام پر بھی کوئی پابندی نہیں اور ہم کھل کر یہ کام کر سکتے ہیں۔ صرف اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ جذبات کے جوش میں خواہ مخواہ کی محاذ آرائی درست نہیں۔

ہمارے معاشرے میں آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد، پچھلے دو سو برسوں سے ہمارے سیاسی رہنما بالعموم ہمیں قانون توڑنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ چونکہ ملک میں اسلام کا مکمل نفاذ نہیں ہو سکا اس لئے ہمارے سیاسی کارکن سگنل توڑنے، ٹریفک کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے۔ اس طرح کی حرکتوں سے یہ لوگ اسلام کو تو نافذ نہیں کر پاتے اور نہ ہی حکومت کو کوئی بڑا نقصان پہنچا پاتے ہیں لیکن بے چارے عوام الناس کو تنگ ضرور کرتے ہیں جن کا اس معاملے میں کوئی قصور نہیں۔

اپنی شخصیت کو بہتر بنانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم خود میں قانون کا احترام پیدا کریں اور اگر یہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کے خلاف نہ ہو تو اس کی پابندی کریں۔ انارکسٹوں اور دہشت گردوں کو کسی معاشرے میں بھی اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔

ظاہری شکل و شباہت اور جسمانی صحت

انسان کی شخصیت کا ایک اور اہم پہلو اس کی ظاہری شکل و صورت بھی ہے۔ یہ چیز بھی دوسروں کو متاثر کرنے میں بہت اہمیت کی حامل ہے۔ خوبصورتی یا بدصورتی انسان کے اپنے بس کی بات نہیں لیکن جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوا اس میں اپنی کوششوں سے اضافہ یا کمی کی جاسکتی ہے۔

دین اسلام نے جہاں انسان کے باطنی شخصیت کے تزکیے اور تطہیر کے لئے بہت سے احکامات دیے ہیں ، وہاں اس کی ظاہری شخصیت کو بھی بڑی اہمیت دی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا ایک بڑ احصہ اسی پہلو سے متعلق ہے۔ چنانچہ روزانہ کم ازکم پانچ مرتبہ وضو کرنا؛ جنسی عمل کے بعد لازماً غسل کرنا؛ بالوں او رناخنوں کی تراش خراش کرنا؛ منہ، ناک اور کان کی صفائی کرنا؛ صاف ستھرا لباس پہننا؛ کھانے سے پہلے اور بعد ہاتھ دھونا؛ یہ سب وہ چیزیں ہیں جو ہزاروں سالوں سے ہمارے دین کا لازمی تقاضا ہیں۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو بھی ان چیزوں کا حکم دیا گیا تھا۔ دور جدید کے ہائی جین کے اصول بھی انہی باتوں کی تلقین کرتے ہیں۔

ظاہری شکل و شباہت کے علاوہ جسمانی صحت بھی شخصیت کا اہم ترین پہلو ہے۔ اگر انسان صحت مند نہ ہو تو وہ کسی کام کو بھی صحیح طور پر انجام نہیں دے سکتا۔ دین نے اپنی صحت کی حفاظت کو بڑی اہمیت دی ہے اور ایسی تمام چیزوں سے روکا ہے جو صحت کے لئے نقصان دہ ہوں۔ اپنے ہاتھوں خود کو ہلاکت میں ڈالنا کسی طرح بھی درست نہیں۔ ہمارے بزرگ بالخصوص بعض صوفیاء، رہبانیت کی تعلیمات کے زیر اثر اس حکم سے واقفیت کے باوجود اس سے پہلو تہی کرتے رہے ہیں۔ چنانچہ ان کے حالات میں آپ یہ عام طور پر پڑھیں گے کہ فلاں بزرگ کی خوراک بہت قلیل تھی یا فلاں بزرگ فلاں بیماری کا شکار رہتے تھے۔ دلچسپ امر یہ ہے اس کے برعکس موجودہ دور کے دینی طبقے پر خوش خوراکی اور موٹاپے کا الزام لگایا جاتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا رویہ اس افراط و تفریط کے مابین اعتدال پر مبنی تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث بہت مشہور ہے جس میں بھوک رکھ کر کھانا کھانے کی تلقین کی گئی ہے۔ ہمارے ماحول میں کوئی گھوڑے یا اونٹ پر چند کلومیٹر سفر کرنے کی ہمت نہیں رکھتا لیکن صحابہ کرام کی فٹنس کا یہ عالم تھا کہ وہ سینکڑوں میل کا سفر گھوڑوں اور اونٹوں پر طے کرتے تھے۔ ان کے ہاں بڑے بڑے اور مستقل امراض بہت ہی کم پائے جاتے تھے۔

ان کے ضعیف العمر افراد بھی اتنے صحت مند ہوتے تھے کہ وہ گھوڑوں کی پیٹھوں پر بیٹھ کر اور کئی کلو وزنی تلواریں اٹھا کر جنگوں کی قیادت کیا کرتے تھے۔ بعد کے ادوار میں بھی یہی رجحان جاری رہا۔ قدیم بادشاہ تک اتنی سخت زندگی گزارتے جتنی ہمارے ہاں عام آدمی بھی نہیں گزارتا۔ مشہور مغل بادشاہ بابر کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ قلعے کی فصیل پر دو سپاہیوں کو بغل میں دبا کر بھاگا کرتا تھا۔ خدا جانے ان سپاہیوں کا کیا حال ہوتا ہوگا۔ بعض لوگوں میں راہبانہ تعلیمات کے زیر اثر یہ خیال پھیل گیا کہ علاج کروانا توکل کے خلاف ہے، دوسری طرف تمدنی ترقی کی وجہ سے صحت برقرار رکھنے والے عوامل بھی ختم ہوگئے اور سستی و کاہلی کا رجحان پھیلتا چلا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری صحت اب اس معیار کی نہیں رہی۔

اپنی جسمانی صحت کو بہتر رکھنے کے لئے بہترین طریقہ یہ ہے کہ حفظان صحت کے اصولوں پر سختی سے عمل کیا جائے؛ خوراک کے معاملے میں افراط و تفریط سے بچا جائے ؛ اگر ہوسکے تو جوانی کے دور ہی سے ہر سال اپنے ٹسٹ کروانے کی عادت ڈالی جائے تاکہ بڑی بیماریوں کی تشخیص ابتدائی سٹیج پر ہی کی جاسکے؛ اپنی صحت کے معاملے میں کسی قابل ڈاکٹر سے ہمیشہ مشورہ جاری رکھی جائے؛ اگر خدانخواستہ کوئی چھوٹی موٹی بیماری لگ جائے تو اس کا فوراً علاج کروایا جائے۔ ان تمام چیزوں کے ساتھ ورزش اور اپنی اپنی پسند کے مطابق جسمانی کھیلوں کا اہتمام کیا جائے اور جسم کو مشقت کا عادی بنایا جائے۔ ہمارے معاشرے میں زیادہ تر امراض درمیانی عمر میں لگنا شروع ہوتے ہیں، اس لئے اس دور میں ان تمام چیزوں کا خاص خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔اگر انسان اپنی جوانی اور مڈل ایج کو اچھی صحت کے ساتھ گزار لے تو اسے بڑھاپے میں بھی خاصی سہولت ہو جاتی ہے اور وہ بڑے بڑے امراض سے محفوظ رہتا ہے۔



چستی(Agility)

کسی فرد کی ظاہری شخصیت کا ایک اہم حصہ اس کا چاق و چوبند اور مستعد ہونا بھی ہے۔ بعض لوگ اچھی صحت کے باوجود ڈھیلے ڈھالے اور سست ہوتے ہیں۔ یہ چیز کسی بھی انسان کی شخصیت پر برا اثر ڈالتی ہے او راسے دوسرے معاملات میں بھی نکما سمجھ لیا جاتا ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سستی اور کسل سے محفوظ رہنے کی دعا مانگا کرتے تھے۔ اگر آپ کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی پوری زندگی نہایت مستعدی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینے میں گزری اور وفات سے چند دن پہلے کی بیماری کے علاوہ آپ کو کوئی بڑی بیماری بھی لاحق نہیں ہوئی۔

خود میں چستی پیدا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ روزانہ ورزش کی جائے اور اپنے ذوق اور سہولیات کے مطابق جسمانی کھیلوں میں حصہ لیا جائے۔ ہمارے یہاں بڑے شہروں میں کھیلوں کی سہولیات بہت کم ہیں۔ اگر معاشرتی سطح پر ڈیمانڈ موجود ہو تو سرکاری اور پرائیویٹ ان سہولیات میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔



ایثار

ایثار انسان کی اعلیٰ ترین صفات میں سے ہے ۔ اپنی ضروریات کو چھوڑ کر دوسروں کی ضروریات پوری کرنا کسی اعلیٰ ترین جذبے کے تحت ہی ممکن ہے۔ اگر آپ خود میں یہ صفت پیدا کرسکیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی ایک بڑی نعمت ہو گی۔ اگر ہم اپنے گرد نظر دوڑائیں تو ہمیں ایسے بہت سے لوگ ملیں گے جن میں یہ جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوگا۔ آپ نے یقینا دیکھا ہوگا کہ ایسے لوگوں کی معاشرے اور خاندان میں انتہا درجے کی عزت کی جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں یہ جذبہ اس قدر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا کہ خالی پیٹ ہونے کے باوجود اپنے دوسرے بھائیوں کو کھانا کھلانا ان کا عام معمول تھا۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں اپنی عزیز ترین چیزوں کو قربان کرنے کی تلقین کی ہے: لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون۔ (اٰل عمران 3:94) ’’ تم اس وقت تک نیکی کو نہیں پا سکتے جب تک (اللہ کی راہ میں ) اس چیز کو خرچ نہ کرو جو تمہیں سب سے زیادہ محبوب ہے۔ ‘‘

ٍ خود میں ایثار کا جذبہ پیدا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ انسان غور کرے کہ دنیا بھر میں کتنے لوگ دوسروں کے لئے ایثار کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کے ایثار کے واقعات کا مطالعہ اس جذبے کو بڑھاتا ہے۔ ایثار کا حقیقی لطف اس وقت نصیب ہوتا ہے جب انسان اس کو عملی طور پر انجام دیتا ہے۔ کبھی اپنی ضرورت کی چیز اپنے سے زیادہ ضرورت مند کو دے کر دیکھئے ، اسے حاصل ہونے والی خوشی آپ کو دلی سکون عطا کرے گی۔

شروع شروع میں بڑے بڑے ایثار کرنے کی کوشش نہ کیجئے بلکہ چھوٹی چھوٹی چیزوں سے آغاز کیجئے ۔ جب یہ عادت پختہ ہوجائے تو پھر بڑی بڑی قربانیاں بھی دیجئے ۔ ان سب معاملات میں اس بات کا خیال رہے کہ یہ سب صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کیجئے۔ اگر ہم نے شہرت اور نام و نمود یا کوئی اور دنیاوی مفاد حاصل کرنے کے لئے ایثار کیا تو یہ قربانی رائیگاں جائے گی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا کوئی اجر نہ مل سکے گا۔



احساس برتری اور احساس کمتری (Superior & Inferior Comlex)

بعض انسان کم ظر ف ہوتے ہیں۔ جب انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نعمت ملتی ہے تو وہ اس پر اس کا شکر ادا کرنے کی بجائے اسے اپنی کاوشوں کا نیتجہ سمجھتے ہیں۔ اپنی کامیابیوں کے زعم میں وہ خود کو دوسروں سے بہتر سمجھنے لگتے ہیں۔ دوسروں کو حقیر سمجھنا اور ان کے ساتھ اچھا سلوک نہ کرنا ان کی عادت بن جاتی ہے۔ ہمیں اپنے گرد و پیش ایسے بہت سے کردار ملیں گے۔ غرور و تکبر کی بڑی وجوہات میں مال و دولت، اعلیٰ عہدہ، حسب و نسب اور سب سے بڑھ کر علم اور دین داری شامل ہیں۔

جدید شہری معاشروں میں اب حسب و نسب کا غرور نسبتاً کم ہو گیا ہے لیکن دیہاتی معاشروں میں اس کی وجہ سے امتیازی سلوک آج بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ مال اور عہدے کا غرور آج بھی اسی طرح قائم ہے ۔ علم اور دین داری کا غرور وہ ہے جس کا شکار سب سے زیادہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو دین کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ بعض کم ظرف اہل علم خود کو دوسروں سے زیادہ بہتر سمجھ کر انہیں حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ہر بات میں ’’جاہل‘‘ کا لفظ بڑی نفرت اور حقارت سے ادا کرتے ہیں۔

بعض لوگ اپنی عبادت کے زعم میں ساری دنیا کو گناہ گار سمجھتے ہیں اور ڈنڈا لے کر سب کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور انہیں کافر، مشرک، بدعتی، بے عمل، گستاخ نجانے کیا کیا قرار دیتے رہتے ہیں۔ دین اسلام ایسے تمام رویوں کو سختی سے مسترد کرتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا : انہ لا یحب المستکبرین۔ (النحل 16:23) ’’بے شک اللہ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ جو لوگ زمین پر اکڑ کر چلتے ہیں، ان کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے: ولا تمش فی الارض مرحا ، انک لن تخرق الارض و لن تبلغ الجبال طولا۔ (بنی اسرائیل 17:37) ’’زمین پر اکڑ کر نہ چلو، بے شک تم نہ تو زمین کو پھاڑ سکتے ہو او رنہ ہی پہاڑوں جتنے بلند ہو سکتے ہو۔ ‘‘

احساس برتری یا غرور و تکبر کے برعکس بعض افراد احساس کمتری کا شکار بھی ہوجاتے ہیں۔ یہ عموماً وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں کسی بڑی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ ایسے والدین، جو اپنے بچوں کو بہت زیادہ دباؤ میں رکھتے ہیں، کے بچوں میں بالعموم احساس کمتری بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ اس مرض کے شکار لوگوں میں عموماً قوت ارادی او رقوت فیصلہ کی کمی ہوتی ہے۔

احساس برتری ہو یا احساس کمتری، یہ دونوں امراض کسی بھی انسان کی شخصیت پر بہت برا اثر چھوڑتے ہیں۔ ایک متکبر شخص معاشرے میں اپنی عزت اور مقام کھو بیٹھتا ہے۔ اگر کوئی اس کی عزت کرتا بھی ہے تو صرف اس کے سامنے، اس کی عدم موجودگی میں عام طور پر لوگ اس کا مذاق اڑاتے ہیں یا پھر اس کی برائیاں کرتے ہیں۔ اسی طرح احساس کمتری کا شکار انسان بھی دوسروں سے ملنے جلنے سے گھبراتا ہے اور اپنے ہی خول میں بند ہو کر رہ جاتا ہے۔

دین اسلام ہمیں غرور و تکبر کے مقابلے میں عجز و انکسار اور احساس کمتری کے مقابلے میں عزت نفس کا تصور دیتا ہے۔ عجز و انکسار کا مطلب احساس کمتری نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی کم حیثیتی کا اعتراف کرنا ہے۔ ایک عاجز انسان اپنی ہر کامیابی کو اپنی صلاحیتوں کا نتیجہ نہیں بلکہ اپنے رب کا فضل سمجھتا ہے اور اس کے سامنے سر بسجود ہوتا ہے۔ وہ دوسروں کو وہی مقام دیتا ہے جو خود اسے حاصل ہے۔

دین اسلام ہمیں ایک دوسرے کی عزت کرنے کا حکم دیتا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع میں ایک انسان کی عزت کو حرم کعبہ کی طرح محترم بتایا ہے۔ احساس کمتری کے شکار انسان کو سوچنا چاہئے کہ اگر اسے ایک مرتبہ ناکامی کا سامنا کرنا بھی پڑا ہے لیکن زندگی میں اسے بارہا کامیابیاں بھی ملی ہیں۔ یہ جو دنیا میں وہ چلا پھر رہا ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا اس پر فضل ہی تو ہے۔ شیخ سعدی نے کیا خوب درس دیا ہے کہ جس کے پاس جوتے نہ ہوں ، وہ جوتے پہننے والوں کو نہ دیکھے بلکہ اسے دیکھے جس کے پاس پاؤں ہی نہیں ہیں۔

احساس برتری کا علاج تو اس میں مبتلا شخص اگر خود چاہے تو کر سکتا ہے لیکن احساس کمتری کے شکار افراد کا علاج اس کے دوست اور رشتے دار بھی کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کے نزدیک کوئی ایسا دوست یا رشتے دار ہے جو اس احساس کا شکار ہے تو اسے حوصلہ دلائیے اور اس میں جینے کی امنگ پیدا کیجئے۔ آپ کی یہ نیکی کبھی ضائع نہیں جائے گی اور ایک انسان کی زندگی سنور جائے گی۔ اس بات کا خیال رہے کہ یہ علاج نہایت محبت اور شفقت سے ہونا چاہئے، طعن و تشنیع کے انداز سے ہمیشہ اجتناب کرنا چاہئے۔



خوش اخلاقی (Courtesy)

خوش اخلاقی ہی انسان کی وہ صفت ہے جو اسے اپنے معاشرے میں مقبول بناتی ہے۔ ہم یہ بارہا دیکھتے ہیں کہ بداخلاق شخص کے کوئی قریب جانا بھی پسند نہیں کرتا، اس کی دکان سے کوئی چیز لینا پسند نہیں کرتا، اس کا ماتحت یا افسر بن کر کام نہیں کرنا چاہتا۔ قرآن مجید ہمیں دوسروں سے خوش اسلوبی سے بات کرنے اور اچھا رویہ رکھنے کی تلقین کرتا ہے۔ بات بات پر بھڑک اٹھنا اور سخت لب و لہجہ اختیار کرنا کسی بھی معاشرے میں اچھا نہیں سمجھا جاتا۔

دعوت دین کے میدان میں خوش اخلاقی کی بہت اہمیت ہے لیکن عجیب بات ہے کہ ہمارے کئی داعیان اسلام میں اس کا فقدان پایا جاتا ہے۔ جب یہ کسی کو دین کی دعوت دیتے ہیں تو ان کا انداز ایسا ہوتا ہے کہ دوسرا بس فوراً ان کی بات مان جائے ورنہ یہ اسے جہنم میں پہنچا کر دم لیں گے۔بعض دینی جماعتوں کے کارکنوں کا انداز ایسا ہوتا ہے کہ ’’ پلیز یہ کام کر دیجئے ۔ (رویے اور اندازسے ) اور اگر نہیں کریں گے تو ہم کروانا جانتے ہیں۔ ‘‘

خود میں خوش اخلاقی پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اپنے ذہن میں مثبت خیالات کو فروغ دیجئے۔ ہر وقت معاشرے کی خامیوں پر کڑھتے رہنا اور دوسروں کو دیکھ دیکھ کر جلنا انسان میں چڑچڑا پن اور غصہ پیدا کرتا ہے۔ اگر کسی کی کوئی خامی سامنے آ بھی جائے تو اسے نظر انداز کرکے اس کی خوبیوں پر نظر ڈالئے۔ اسی طرح معاشرے کی خامیوں کے ساتھ ساتھ اس کی خوبیوں کو بھی مد نظر رکھئے اور خوشیوں کے مواقع تلاش کیجئے۔ ہر وقت ہنستے مسکراتے رہیے ۔ اپنا لہجہ نرم اور دھیما رکھئے اور غصے والے اور بدمزاج لوگوں سے اجتناب کیجئے۔



معاملہ فہمی

ہمارے ہاں چالاکی و ہوشیاری کو عموماً منفی مفہوم میں لیا جاتا ہے اور چالاک و ہوشیار آدمی کو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ اس ذہنی رویے کے برعکس معاشرے میں ہر شخص چالاک و ہوشیار بننے کی کوشش میں مصروف رہتا ہے۔ ہمارے نقطہ نظر کے مطابق ہوشیاری انسان کی ایک مثبت صفت ہے ۔ ہوشیاری کا مطلب دھوکے بازی نہیں ہے بلکہ دوسروں کی دھوکہ بازی سے ہوشیار رہنا ہے۔اسی کا نام معاملہ فہمی ہے۔ انسان کو دین و دنیا کا اتنا علم ہونا چاہئے کہ کوئی طالع آزما اسے بے وقوف نہ بنا سکے۔ ہمارے معاشرے میں صرف دنیا وی اعتبار سے ہی دھوکے باز لوگ موجود نہیں ہیں بلکہ ایسے لوگ بھی بکثرت پائے جاتے ہیں جو دین کے نام پر لوگوں کو بے وقوف بنا کر اپنا الو سیدھا کرتے ہیں۔

معاملہ فہمی انسان میں علم اور تجربے سے آتی ہے۔ اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ تجربے کا کوئی نعم البدل نہیں۔ اگر آپ اپنی ذہانت، علم اور تجربے میں اضافے کی کوشش کر رہے ہیں تو معاملہ فہمی انشاء اللہ خود بخود پیدا ہوجائے گی۔ ابتدا میں خاص طور پر دینی معاملات میں دوسروں کی دھوکے بازی سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ آنکھیں بند کرکے کسی کے پیچھے چلنے کی کوشش نہ کیجئے بلکہ چند مختلف افراد کا مشاہدہ کیجئے، ان کی بات سنئے اور اپنی عقل سے خود فیصلہ کیجئے۔یہ بھی ضرور دیکھئے کہ جو لوگ پہلے سے اس راستے پر چل رہے ہیں ، وہ کس قسم کے لوگ ہیں۔ کیا وہ مخلص ہیں، چالاک و ہوشیار لوگ ہیں یا پھر محض اندھے مقلد ہیں۔اس معاملے میں اپنے والدین، اساتذہ اور مخلص دوستوں کے مشوروں کو بھی اہمیت دیجئے۔

اس بات کو جان لیجیے کہ اگر کوئی مذہبی یا سیاسی رہنما آپ کو اپنی شخصیت سے وابستہ کرنا چاہتا ہو، آپ کو کسی دوسروں کی کتب کا مطالعہ کرنے سے روکتا ہو، آپ کو اختلاف رائے کی اجازت نہ دیتا ہو، تو وہ آپ سے مخلص نہیں۔ وہ آپ کو غلام بنا کر رکھنا چاہتا ہے۔ ایسے لوگوں سے اجتناب بہت ضروری ہے۔ آپ کو چاہیے کہ اپنے ذہن کو کھول کر رکھیں اور تنقیدی انداز میں اپنے لیڈروں کا بھی جائزہ لیتے رہیں تاکہ وہ آپ کو ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرکے نہ پھینک سکیں۔



انتہا پسندی

بعض لوگوں میں انتہا پسندانہ سوچ اور رویے پائے جاتے ہیں۔ یہ لوگ ہر معاملے میں غلو کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔ یہ غلو اور انتہا پسندی دینی معاملات میں بہت نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے۔ اگر دین نے کسی کام کا مطالبہ پاؤ بھر کیا ہے تو یہ لوگ اسے بڑھا کر سیر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دینی اور دنیاوی معاملات میں انتہا پسندی سے بہت سے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں اور دوسرے کئی معاملات نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ اپنی شخصیت کو اس قسم کی سوچ اور رویے سے پاک رکھئے اور اعتدال کے ساتھ اپنے معاملات انجام دیجئے۔ ہمارے معاشرے میں انتہا پسندی کی جو جو شکلیں پائی جاتی ہیں، ان کی ایک فہرست یہاں پیش کی جارہی ہے تاکہ ہم ان سے محتاط ہو کر اعتدال پسندی کو اختیار کرسکیں۔



• عبادات اور دینی کاموں میں اتنا غلو کہ انسان اپنی دنیاوی ذمہ داریوں اور حقوق العباد کو فراموش کردے۔

• دنیا پرستی میں اتنے منہمک ہو جانا کہ آخرت اور اس کے تقاضے مکمل طور پر فراموش ہو جائیں۔

• غیر مسلموں کے ساتھ اچھا سلوک کرکے انہیں اسلام کی طرف مائل کرنے کی بجائے ان کے ساتھ نفرت اور حقارت سے پیش آنا ۔

• حکومت کے ساتھ خواہ مخواہ کی چپقلش اور محاذ آرائی۔

• دہشت گردی اور نہتے لوگوں پر حملہ ۔

• دوسرے نقطہ ہائے نظر کے ساتھ افہام و تفہیم کے رویے کی بجائے طعن و تشنیع اور فتوے بازی کا رویہ اختیار کرنا۔

• دوسرے فرقے کی مساجد پر حملہ کرکے بے گناہ افراد کو قتل کرنا۔

• مختلف حیلے بہانوں سے دوسروں پر ظلم و ستم کرنا اور ان کے حقوق انہیں ادا نہ کرنا۔



ابلاغ کی صلاحیتیں(Communication Skills)

انسان معاشرے کی صورت میں زندگی گزارتا ہے اور یہ اس کی بنیادی ضرورت ہے کہ وہ اپنے خیالات ، نظریات، خواہشات اور ضروریات سے دوسروں کو آگاہ کرے۔ اس خصوصیت کو ابلاغ (Communication) کی صلاحیت کہتے ہیں۔ بعض افراد میں یہ صلاحیت دوسروں کی نسبت زیادہ ترقی یافتہ ہوتی ہے۔ ابلاغ بالعموم تین قسم کا ہوتا ہے، تقریری (Oral) ، تحریری (Written) ، اور غیرلفظی (Non-Verbal) ۔ ان تینوں قسم کی صلاحیتوں کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

اس موضوع پر ہم نے اپنی تحریر ’’دعوت دین کا کام کیسے کیا جائے؟‘‘ میں تفصیلی بحث کی ہے۔ ان صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لئے اہل مغرب نے بہت کام کیا ہے اور اعلیٰ درجے کے کورسز ڈیزائن کئے ہیں۔ بازار میں اس موضوع پر بہت سی کتب بھی دستیاب ہیں جن کے ساتھ آڈیو اور ویڈیو معاونات بھی ہوتے ہیں۔ ملک بھر میں ایسے بہت سے ادارے بھی کھل چکے ہیں جن میں ایسے کورسز کروائے جاتے ہیں جو کسی بھی شخص کی ان صلاحیتوں کو بہتر بناتے ہیں۔ ان سب چیزوں سے بھرپور استفادہ کیا جاسکتا ہے۔



خطرات کے بارے میں رویہ (Attitude towards Risk)

بعض انسان فطری طور پر خطرات کو پسند کرتے ہیں اور اپنے ذاتی اور کاروباری معاملات میں رسک اٹھانے سے گریز نہیں کرتے۔ اس کے برعکس بعض لوگ انتہائی محتاط طبیعت کے مالک ہوتے ہیں اور ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھاتے ہیں۔اس دنیا کا کوئی بھی کام رسک اٹھائے بغیر ممکن نہیں۔ اگر ہم اپنے گھر سے باہر بھی قدم رکھتے ہیں تو اس میں جان جانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

خطرات مول لینے کے بارے میں بہت سے لوگوں میں افراط و تفریط کے رویے پائے جاتے ہیں۔ بعض لوگ تو محض کھیل کھیل میں اپنی جان کو خطرے میں ڈالتے ہیں اور ایسے کھیل کھیلتے ہیں جن میں جان جانے کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس قسم کے لوگ اہل مغرب کے ہاں بہت زیادہ پائے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس بعض لوگ ضرورت سے زیادہ محتاط ہوتے ہیں اور اپنی زندگی کو عذاب بنا لیتے ہیں۔ جیسا کہ ایک صاحب کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ اس ڈر سے کبھی چھت کے پنکھے کے نیچے نہیں بیٹھتے کہ کہیں یہ پنکھا نیچے نہ گر پڑے۔ وہ کبھی ہوائی جہاز پر سفر نہیں کرتے تھے کہ کہیں یہ کریش نہ ہوجائے۔

خطرات کے بارے میں صحیح طرز عمل یہ ہے کہ ایک مناسب حد تک رسک ضرور لیا جائے اور اپنی زندگی گزاری جائے۔ جن خطرات کا امکان زیادہ ہو، ان سے بچاؤ کی مناسب تدابیر بھی کی جائیں اور مناسب حد تک احتیاط بھی کی جائے۔ بعض اوقات خطرہ انسان کی اپنی پیداوار بھی ہوتا ہے جس کی بڑی مثال جوا (Gambling) ہے۔ اس خطرے کے نتیجے میں ایک شخص بہت بڑی رقم سے محروم ہوجاتا ہے اور دوسرا اس کا حقدار بن جاتا ہے لیکن معاشرے کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ قدرتی خطرات سے بچنا تو انسان کے بس میں نہیں لیکن اس قسم کے مصنوعی خطرات سے بچا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے دین نے جوئے کو گناہ قرار دیا ہے۔

اس کے برعکس صنعت و تجارت میں بھی قدرتی نوعیت کا رسک ہوتا ہے جو انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتا۔ اس کے نتیجے میں معاشرے کو بہت سے فوائد بھی پہنچتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ دین میں تجارت کو حلال اور جوئے کو حرام قرار دیا گیا ہے۔



پسندیدگی اور ناپسندیدگی (Likes & Dislikes)

ہر انسان کسی چیز، شخص، نظریے یا کردار کو پسند یا ناپسند کرتا ہے اور اس کا وقتاً فوقتاً اظہار بھی کرتا رہتا ہے۔ کھانے پینے کی اشیاء سے لے کر نظریات اور رویوں سے لے کر دوسرے افراد اس کی پسند یا ناپسند کے دائرے میں داخل ہوتے ہیں۔ دین نے اس سلسلے میں کوئی پابندی عائد نہیں کی کہ آپ کسی خاص چیز کو پسند کریں یا نہ کریں۔ ایسا ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بعض باتیں پسند ہیں اور بعض نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ چیزیں نیکی کے افعال ہیں اور ناپسندیدہ چیزوں میں کفر اور گناہ کے کام ہیں۔ ایک بندہ مومن کا کام ہے کہ وہ ہر معاملے میں الحب للہ و البغض فی اللہ کا مظاہرہ کرے اور اس میں کوئی کمپرومائز نہ کرے۔

جن چیزوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے کوئی حکم نہیں دیا ، وہ مباح کام ہیں۔ ان میں ہر شخص اپنے ذوق، طبع اور پسند و ناپسند سے کام لے کر اپنے لئے چیزوں ، دوستوں اور نظریات و افکار کا انتخاب کر سکتا ہے۔ اس بات کا بھی خیال رہنا چاہئے کہ اگر ہماری پسند یا ناپسند معاشرے کی پسند وناپسند کے معیارات کے متضاد ہے تو آپ کے لئے زندگی تنگ ہو سکتی ہے۔ مثلاً ہمارے شہری معاشرے میں ایک خاص طرز کے لباس کا رواج ہے، اگر ہم اس میں دیہاتی لباس پہن کر پھریں گے تو ہماری شخصیت کا بہت عجیب و غریب امیج سامنے آئے گا۔ اسی طرح دیہی معاشرے میں شہری لباس بھی خواہ مخواہ کے تضادات پیدا کردے گا۔ جہاں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں ہوتی، وہاں بلاوجہ معاشرے سے ٹکراؤ کی پالیسی درست نہیں۔



جذبات و احساسات کے اظہار کا طریقہ

جذبات و احساسات کا اظہار ہر انسان کا فطری حق ہے۔ ہر شخص جس طریقے سے اپنے جذبات کا اظہار کرتا ہے وہ اس کی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔ بعض لوگ خوشی کے مواقع پر آپے سے باہر ہوجاتے ہیں جبکہ بعض لوگ پروقار طریقے سے خوشی مناتے ہیں۔ اسی طرح غمی کے مواقع پر بہت سے لوگ جزع و فزع اور بین کرنا شروع کردیتے ہیں جبکہ دوسری قسم کے لوگ اس میں صبر سے کام لیتے ہیں۔ اسی طرح حیرت، غصے اور دیگر جذبات کا اظہار ہر انسان ایک مختلف طریقے سے کرتا ہے۔ اس پر ہم صبر و شکر کے تحت خاصی بحث کر چکے ہیں۔ یہاں صرف اتنا اضافہ کرنا ضروری ہے کہ جذبات کے موقع پر خود کو کنٹرول کرنا چاہئے اور پروقار طریقے سے اپنے جذبات کا اظہار کرنا چاہئے۔

غیبت

غیبت سے مراد یہ ہے کہ کسی شخص کی اس کی عدم موجودگی میں اس کے عیوب بیان کئے جائیں۔ یہ وہ برائی ہے جو ہمارے معاشرے کی رگوں میں سرایت کی ہوئی ہے۔ دین اس بات کو سخت ناپسند کرتا ہے کہ کسی کے عیوب کو اچھالا جائے اور معاشرے میں اسے جو مقام حاصل ہے ، اسے اس سے گرانے کی کوشش کی جائے۔ اس کی برائی کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن مجید نے اسے اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف قرار دیا ہے۔

ہماری غیبت کی عادت دوسروں کی ذاتیات میں دلچسپی اور تجسّس سے جنم لیتی ہے۔اگر ہم اس بری عادت سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس تجسّس کو ختم کرنا ہوگا۔ اگر ہم اپنی شخصیت کو اچھا بنانا چاہتے ہیں تو اس کے لئے یہ طے کرنا ضروری ہے کہ کسی کے معاملات میں ہم دخل نہ دیں گے۔

غیبت کے اصول میں استثنا کی صرف ایک صورت ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر ہمیں یہ علم ہوجائے کہ کوئی شخص دوسرے کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں ہے تو اس بارے میں اسے آگاہ کر دینے میں کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح جو لوگ معاشرے میں کسی اہم ذمہ داری پر فائز ہوں لیکن اس کا ناجائز استعمال کر رہے ہوں تو ان کی برائی کو بیان کرنا غیبت نہیں تاکہ پورے معاشرے کو ان کے شر سے محفوظ رکھا جاسکے۔



جوش و ولولہ (Enthusiasm)

کسی بھی کام کو کرنے کے بارے میں جوش و ولولہ ایک لازمی جزو ہے اور اس کے بغیر کوئی کام بھی پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا۔ ہر نیک اور مفید کام کے لئے ہمارے اندر جوش و ولولہ ہونا چاہئے اور اسے دوسروں کے اندر بھی پیدا کرنا چاہئے۔ اسی طرح برائی اور فحش کاموں میں ہر قسم کے جوش و جذبے سے اجتناب کرنا چاہئے۔ جوش کا ایک منفی پہلو بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ بعض لوگ جوش میں تمام حدود کو پار کر جاتے ہیں اور کسی اور چیز کی پرواہ نہیں کرتے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ کئی لوگوں نے اللہ تعالیٰ سے قربت حاصل کرنے کے جوش میں دنیا ہی کو چھوڑ دیا اور جنگلوں میں نکل گئے۔ اس منفی پہلو سے ہمیشہ اجتناب کرنا چاہئے۔

جوش کے بارے میں ایک اور اہم بات یہ ہے کہ بعض لوگ جوش میں کوئی کام شروع کرتے ہیں اور اس کے دوسرے پہلوؤں کی پرواہ نہیں کرتے۔ لیکن کچھ ہی عرصے بعد جب یہ جوش ٹھنڈا پڑتا ہے تو اس سے بالکل ہی اچاٹ ہوجاتے ہیں۔ اس کے نتیجے ان کی شخصیت سے دوسروں کا اعتبار (Credibility) اٹھ جاتا ہے اور اسی تجربے کے باعث دوسرے لوگ انہیں اہمیت دینا کم کر دیتے ہیں۔ جب بھی ہم پر کسی کا م کا جوش سوار ہو تو اسے شروع کرنے سے قبل اس کے تمام مثبت اور منفی پہلوؤں کا جائزہ لینا چاہئے اور جب اسے شروع کرلیں تو پھر اس پر استقامت (Consistency) کے ساتھ عمل کرنا چاہئے۔



خود آگہی

اپنی شخصیت کی تعمیر کے لئے یہ ضروری ہے کہ انسان اپنی شخصیت کے تمام پہلوؤں سے آگاہی بھی رکھتا ہو۔ ماہرین نے اپنی ذات کے شخصی تجزیے (Personality Analysis) کے بہت سے طریقے وضع کرلئے ہیں۔ یہاں پر ہم صرف ایک طریقہ بیان کر رہے ہیں جو ہمارے خیال میں زیادہ مفید ہے۔ اسے SWOT Analysis کہا جاتا ہے۔ لفظ SWOT دراصل Strengths, Weaknesses, Opportunities & Threats کا مخفف ہے۔ عموماً کاروباری ادارے اپنی طویل المیعاد اور قلیل المیعاد پلاننگ میں اس طریق کار کو اختیار کرتے ہیں۔

ہمارے خیال میں یہ تجزیہ اپنی ذات اور شخصیت کی تعمیر میں بھی اسی طرح کارآمد ہے جس طرح کاروباری اداروں کے لئے مفید ہے۔ اس تجزیے کے پہلے دو عوامل کا تعلق انسان کی اپنی شخصیت سے ہے۔ Strenghts اس کی شخصیت کے مضبوط پہلو اور Weaknesses اس کے کمزور پہلو ہیں۔ باقی دو عوامل کا تعلق اس کے ماحول سے ہے: Opportunities کا تعلق اس کے ماحول میں موجود ایسی چیزوں سے ہے جو اس کی شخصیت کی تعمیر میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں جبکہ Threats سے مراد وہ خطرات ہیں جو اس کی شخصیت کی تعمیر کے پروگرام میں رکاوٹ حائل کر سکتے ہیں۔

ذیل میں ایک چارٹ دیا جارہا ہے جس میں اس تحریر میں بیان کردہ شخصیت کے تمام پہلوؤں کی ایک فہرست دی گئی ہے اور ان میں سے ہر پہلو کا SWOT Analysis بھی کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لئے بطور مثال ایک عام سے انسان (آئیڈیل انسان نہیں) کی فرضی شخصیت کا تجزیہ پیش کیا جا رہا ہے۔ آپ سے گذارش ہے کہ کبھی تنہائی میں بیٹھ کر اس طرح کا ایک چارٹ بنائیے اور اسے اپنی شخصیت کے لئے مکمل کیجئے۔ اس بات کا خیال رکھئے کہ اس تجزیے کو زیادہ سے زیادہ حقیقت کے قریب کیجئے اور کسی معاملے میں خود کو اپنی حقیقی صلاحیت سے زیادہ یا کم نہ ظاہر کیجئے ورنہ آپ بہت سے مسائل کا شکار ہوسکتے ہیں۔

اس کے بعد اپنے والدین، اساتذہ اور قریبی مخلص دوستوں سے اپنی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں رائے حاصل کیجئے اور انہیں اسی طرز کے ایک چارٹ پر درج کیجئے۔ اپنی شخصیت کے بارے میں اپنی رائے کا موازنہ ان کی آراء سے کیجئے۔ اس سے دو فوائد حاصل ہوں گے: ایک تو آپ کو اپنی شخصیت کے ان پہلوؤں سے بھی آگاہی حاصل ہوگی جن پر آپ کی اپنی توجہ نہیں ہوگی اور دوسرے یہ کہ آپ کو دوسروں کے ذہن میں اپنے امیج کا اندازہ ہوگا۔ اس کے بعد آپ اپنے امیج کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات بھی کرسکتے ہیں۔



شخصیت کا پہلو مضبوط پہلو

(Strengths) کمزور پہلو

(Weaknesses) مواقع

(Opportunities) خطرات

(Threats)

ذہانت مجھ میں درمیانے درجے کی ذہانت ہے مجھے ذہین لوگوں کی صحبت میسر ہے

ذہنی پختگی (Maturity) دوسروں کی نسبت زیادہ ہے ذہنی پختہ لوگوں کی صحبت میسر ہے

علمی سطح علم کی کمی ہے علمی شخصیات سے استفادہ کر سکتا ہوں

ابلاغ کی صلاحیت (Communication Skills) اچھی تقریر کر لیتا ہوں اچھی تحریر نہیں کر سکتا میرے کالج میں تقاریر اور مضامین کے مقابلے ہوتے ہیں جو میری صلاحیت بڑھا سکتے ہیں



طرز فکر اور مکتب فکر کوئی نہیں کوئی نہیں

رجحان

(Aptitude) تعلیمی سرگرمیوں کی طرف زیادہ ہے کھیلوں کی طرف کم رجحان ہے میرے ارد گرد کھیلوں کے مواقع دستیاب نہیں

تخلیقی صلاحیتیں (Creativity) بہت زیادہ نہیں

احساس ذمہ داری کافی حد تک پایا جاتا ہے

قوت ارادی او رخود اعتمادی (Confidence) نسبتاً کم ہے میرے دوست میری حوصلہ شکنی کرتے ہیں

شجاعت و بہادری کم ہے

انصاف پسندی موجود ہے

کامیابی کی لگن نسبتاً کم ہے میرے دوست مجھے طعنے دے کر میرے حوصلے کم کرتے ہیں۔

بخل و سخاوت میں خود مالی اعتبار سے کمزور ہوں لہذا کسی حد تک کنجوس ہوں میرے سامنے ایک اچھا کیریئر ہے



اسی طرز پر اپنی شخصیت کا تجزیہ مکمل کرنے کے بعد اپنی شخصیت کے مضبوط پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیجئے اور ان کو مزید بہتر بنانے کے اقدامات سوچئے۔ اسی طرح اپنی خامیوں اور کمزوریوں کا جائزہ لیجئے اور ان کے اسباب جاننے کی کوشش کیجئے۔ اس کے بعد ان کو بہتر بنانے کی کوشش کیجئے۔ اس ضمن میں والدین، اساتذہ اور مخلص دوستوں کے ساتھ مشورہ جاری رکھئے۔ اپنی شخصیت کو بہتر بنانے کے جوجو مواقع آپ کو میسر ہیں، ان سے بھرپور فائدہ اٹھائیے اور جو خطرات لاحق ہیں، ان کا مناسب سد باب کیجئے۔ اس طریقے سے ہم اپنی شخصیت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔اسی طرح اگر دوسرے آپ کے بارے میں کسی غلط تصور میں مبتلا ہیں تو اس امیج کو بہتر بنانے کے لئے عملی اقدامات کیجئے۔



                                                      آپکا دینی بھائی

                                                     شوکت علی سراجی

                                           جامعہ امام محمد بن سعود ریاض